خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 380
خطبات ناصر جلد نهم ۳۸۰ خطبہ جمعہ یکم جنوری ۱۹۸۲ء میں اعلان کر رہا ہوں۔دو قسم کی قربانیاں ہماری ذیلی تنظیمیں بھی خدا کے حضور پیش کر رہی ہیں۔ایک مالی اور ایک ان تمام قربانیوں کا مجموعہ جن کے ساتھ مالی قربانی کا تعلق نہیں۔جہاں تک مالی قربانی کا سوال ہے جو بجٹ اپنے جائزہ کے مطابق وقف جدید بناتی ہے ابھی وہ بجٹ عملاً ہم نے پورا کرنا شروع نہیں کیا۔اس لئے جہاں تک مالی قربانی کا سوال ہے میں امید رکھوں گا کہ سال رواں میں جماعت احمد یہ اپنے بجٹ کو پورا کر دے گی۔انشاء اللہ۔وقف جدید انجمن احمد یہ پاکستان کے قیام کا بڑا مقصد دیہات کی تربیت تھا اور ہے۔احمدی دیہات ( یعنی وہ گاؤں پاکستان کے جہاں احمدی بستے ہیں، دوسرے بھی بستے ہیں لیکن جہاں احمدی بستے ہیں ان کو اس وقت میں احمدی دیہات کہتا ہوں )۔احمدی دیہات کی تعداد سال بہ سال بڑھتی چلی جا رہی ہے۔چوبیس سال قبل جب یہ تحریک شروع ہوئی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے، تو اس وقت جتنے گاؤں اس نظام کی تربیت کے ماتحت آتے تھے ان کی تعداد واقفین وقف جدید سے کہیں زیادہ تھی۔واقفین کی تعداد اور احمدی دیہات کی نسبت کم نہیں ہوئی، بڑھتی چلی جارہی ہے۔ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالی زیادہ سے زیادہ انسانوں کو اپنے قرب کی راہیں دکھلا رہا ہے اور وہ نور جو محد صلی اللہ علیہ وسلم نوع انسانی کے لئے لے کر آئے تھے، زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ہر سال اس میں زیادتی ہو رہی ہے لیکن تربیت کرنے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہو رہی ہے دیہات کی تعداد بڑھنے کے نتیجہ میں۔اس لئے اس وقت اشد ضرورت وقف جدید کو وقف جدید کے واقفین کی ہے۔وقف جدید کے واقفین کی علمی قابلیت کا معیار اور ہے۔وہ جامعہ کے پڑھے ہوئے شاہدین نہیں۔واقفین وقف جدید کی اپنی تربیت اور تعلیم کا ایک علیحدہ نظام ہے۔واقفین وقف جدید جو ہیں عمروں کے لحاظ سے چھوٹی عمر کے اور تجربہ کے لحاظ سے کم تجربہ ہیں۔اس لئے ایک تو میں نصیحت کروں گا انجمن وقف جدید کو کہ جو واقفین وقف جدید ان کے پاس ہیں ، ان کی علمی اور علم کی