خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 371
خطبات ناصر جلد نہم ۳۷۱ خطبه جمعه ۱۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر موقع ، ہر آن ، ہر لحظہ ہماری ہدایت کے سامان کرتا چلا جائے اور فرشتے ہماری مدد کو اُتریں اور خدا کے نام کو بلند کرنے کے لئے جو یہ جلسہ قائم کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس مقصد کے حصول کے سامان ہماری زندگی میں پیدا کر دے۔مہمانوں کی آمد آمد تو شروع ہو چکی ہے۔اس وقت میرے سامنے بہت سے غیر ملکی مہمان بھی بیٹھے ہیں۔اپنے پاکستانی بھی اس جمعہ بہت زیادہ کثرت سے مجھے نظر آرہے ہیں۔گہما گہمی ہے۔یہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ربوہ اپنے کاموں میں مشغولیت کی وجہ سے نظر میں نہیں آتا اور باہر سے آنے والے میرے پیارے بھائی جو ہیں اُن کی شکلیں ہی میری نظروں کے سامنے آتی ہیں لیکن میں اہل ربوہ کو کہوں گا کہ اگر چہ تمہاری شکل میری آنکھ نہیں پکڑتی مگر میرے دل سے تم کبھی غائب نہیں ہوئے۔میں ہمیشہ تمہارے لئے دُعا کرتا رہتا ہوں جس طرح ہر اُس احمدی کے لئے جو دنیا کے کونے کونے میں بسنے والا ہے۔اور ان ایام میں چونکہ قبولیت دعا کے بہت سے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں اس لئے نوع انسان کی بھلائی کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس زمانہ میں انسان، مہذہب انسان ، طاقتور انسان، سائنس میں آگے بڑھنے والا انسان، ایجادات کرتے کرتے آسمانوں کی رفعتوں کو چھو لینے والا انسان، ہلاکت کے گڑھے کی طرف بھی حرکت کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ انسان کو اس ہلاکت سے جس کے لئے وہ خود کوشاں ہے ، محفوظ رکھے اور اس کے ہاتھ کو جو ہلاکت کا سامان پیدا کرنے والے ہیں خدا کے فرشتے پکڑ لیں اور کہیں کہ نہیں ایسا نہیں کرنا۔ہاتھوں سے وہ کام لوجس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہاتھ دیئے ہیں۔اپنی ہلاکت کے سامان پیدا نہ کرو۔دوسروں کی ہلاکت کے سامان پیدا نہ کرو تا کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کے احسان سے انسان فائدہ اٹھا کر ایک ایسا معاشرہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے جس معاشرے کے پیدا کرنے کے لئے یہ زمانہ آ گیا تا کہ نوع انسانی اُمتِ واحدہ، ایک خاندان ہو جائے اور ہر قسم کے دُکھ دُور ہو جائیں اور اگر دُکھ کسی کو کہیں کسی جگہ پہنچے بھی تو سارے انسان اس کو دور کرنے کی کوشش میں لگیں اور غم خوار بنیں ایک دوسرے کے۔انسان جس غرض کے لئے پیدا