خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 372
خطبات ناصر جلد نهم ۳۷۲ خطبه جمعه ۱۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء کیا گیا یعنی مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریت : ۵۷ ) وہ غرض پوری ہو اور اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق نوع انسانی کا پیدا ہو جائے کہ جن کا نہ پیدا ہو یہ تعلق، خدا تعالیٰ جو رب کریم اور مہربان ہے اُس سے ، وہ گنتی کے چند رہ جائیں جو شمار میں نہیں آتے۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو ہماری زندگی میں اپنے فضلوں سے پورا کرے۔ہم عاجز اور کمزور انسان اپنے اعمال کے ساتھ اس چیز کو حاصل نہیں کر سکتے لیکن جہاں اُس کی رحمانیت نے اپنے جلووں سے نیک اور بد، مومن اور کافر کی جھولیاں بھر دیں وہاں وہ یہ سامان بھی پیدا کرے کہ اپنی رحیمیت کے نتیجہ میں جو انعام وہ دینا چاہتا ہے، اس کا حق دار بن جائے انسان اور اس کے تقرب میں اس دنیا میں جو جنت پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ پیدا ہو جائے اور ہمارے جلسے کی غرض پوری ہو اور اس غرض کو قائم رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ برکتوں کے ساتھ آنے والے جلسے آیا کریں اور ہمارے لئے خوشی کا سامان پیدا کیا کریں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۷؍ دسمبر ۱۹۸۱ء صفحه ۲،۱) 谢谢谢