خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 370 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 370

خطبات ناصر جلد نهم ۳۷۰ خطبه جمعه ۱۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں منافق تو نہیں کہا مگر فی قُلُوبِهِم مَّرَضٌ (البقرة :۱۱) کہا ہے کہ بہت سے پہلو صحت مند بھی ہیں اور بعض بیماریاں بھی ساتھ لگی ہوئی ہیں۔بیماری کا جب اعلان ہو تو اس سے مُراد موت نہیں ہوتی بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ صحت کے حصے بھی ہیں۔صحت مند پہلو بھی ہیں اور کمزور اور بیمار پہلو بھی ہیں۔ایسے لوگوں سے بھی نفرت کرنے کا حکم نہیں۔پیار ان سے کیا نہیں جاسکتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ راہ نکالی کہ پیار کے قابل نہیں یہ لوگ، نفرت کا مقام نہیں اُن کا۔اس لئے جو بلند درجات والے ہیں، جو اچھے اخلاق والے ہیں، جو اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے ہیں، جنہوں نے روحانی رفعتوں کو حاصل کیا ہے، ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ جو کمزور ہیں اُن کے لئے دعائیں کریں کہ جن نعمتوں سے کمزور محروم ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کی زندگیوں میں ایسے سامان پیدا کر دے کہ وہ کمزوریاں اُن کی ، وہ بیماریاں اُن کی ، وہ نفاق اُن کا دُور ہو جائے اور جس طرح اکثریت اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنی دعاؤں سے جذب کر کے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کرنے والی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے بن جائیں اور سب کے ساتھ ملتے چلے جائیں۔پروہ جلسہ سالانہ کے موقع پر خاص طور پر یہ دعا کرنی چاہیے کہ ہم میں سے جو کمزور ہیں ، وہ کسی کمزوری کے نتیجہ میں جماعت کی بدنامی اور اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے غضب کو حاصل کرنے کا باعث نہ بن جائیں بلکہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کی عظمتوں کا احساس اُن کے دل میں پیدا کرے اور اس احساس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں ایک نیک تبدیلی پیدا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں پر وہ چلنے لگیں اور جن بشارتوں کا ذکر جماعت احمدیہ کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اُن بشارتوں سے وہ حصہ لینے لگ جائیں۔کوئی نیکی اُس وقت تک انسان کر نہیں سکتا جب تک وہ جو حقیقی اور کامل نیک ہے،سبوح اور قدوس ہے، اپنی طرف سے ایسے سامان نہ پیدا کر دے کہ انسان نیکی کرنے کے قابل ہو جائے۔اس لئے ہر آن ، ہر وقت حضوصاً ان دنوں میں یعنی جلسہ کے ایام میں ، انتہائی عاجزی کے ساتھ اور حقیقتاً خود کو محض لاشے سمجھتے ہوئے دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کریں اور دعائیں