خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 276
خطبات ناصر جلد نہم خطبه جمعه ٫۲اکتوبر ۱۹۸۱ء سے ایک ایسی بات مانگتا ہے جو اس کے علم میں ہے کہ اسے نقصان دینے والی ہے یا ایسی بات کی خواہش رکھتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کسی اور کے متعلق خواہش ہے کہ وہ جو اور ہے وہ اس کے حق میں نہیں ہے جیسے کشتی کا تختہ توڑ دینا۔قرآن کریم نے وہ مثال بڑی اچھی ایک دی ہے ہمارے لئے۔تو خواہش بظا ہر نیک لیکن جو کامل علم رکھنے والی ہستی ہے اس کے نزدیک وہ درست نہیں۔اس واسطے اس طرح نہیں دے گا کہ بچے نے سانپ مانگا اور سوٹی سے اس کی طرف سانپ پھینک دیا ماں نے۔بلکہ وہ حکیم ہے وہ اپنی حکمت کا ملہ سے تمہاری دعاؤں کو سنے گا اور اپنے پیار کا اظہار کرے گا۔تین دلیلیں ، تین حکمتیں یہاں بیان ہوئی ہیں۔سورۂ شعراء میں ہے وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ (الشعراء: ۲۱۸) عزیز پہلے آ گیا ہے۔یہاں دونوں کو اکٹھا کیا ہے۔جو ، جو چاہتا ہے کر سکتا ہے، طاقتور ہے اور بار بار کرم کرنے والی اس کی صفت ہے۔بار بار کرم کرنے والا ہے۔تو رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) جس کی صفت ہو اسے چھوڑ کے ایک ایسی ہستی کی طرف جانا جو جاہل بھی ہے خدا تعالیٰ کے مقابلے میں، طاقتور بھی نہیں ہے اور جس کا رحم جو ہے وہ خدا تعالیٰ کے رحم کے مقابلہ میں اپنی کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا، یہ حماقت ہوگی۔اس واسطے تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ اس لئے عملی زندگی میں (جو اصل چیز میں اس وقت پورے زور کے ساتھ آپ کو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں ) سوائے خدا کے کسی کے ساتھ تعلق قائم نہ کرو اس معنی میں کہ صرف اس پر توکل کرو اور جو عقید تا اس کی صفات کا علم ہے، دعا کرو کہ وہ پیاری صفات تمہاری زندگی میں جلوہ گر ہوں۔خدا کے سوا حقیقی خوشی اور خوشحالی کا سامان کوئی ہستی نہیں پیدا کر سکتی اور اللہ تعالیٰ اتنا پیار کرتا ہے، اتنا پیار کرتا ہے کہ انسانی عقل شرم سے سر جھکا دیتی ہے اور انسان جو ہے اس کو سمجھ نہیں آتا کہ میں کس منہ سے خدا تعالیٰ کی حمد ادا کروں۔ایک ایک انعام کے بدلے میں جو شکر ادا کرنا ہے مناسب، ساری عمر کرتے رہیں تب بھی نہیں وہ شکر ادا ہو گا لیکن کہا تو یہ گیا ہے کہ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (القمن: ٢١) موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح تمہارے اوپر میری نعمتیں نازل ہو رہی ہیں۔صرف ایک