خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 275

خطبات ناصر جلد نهم ۲۷۵ خطبه جمعه ۲/اکتوبر ۱۹۸۱ء اور اس وحی سے ہمیں ایک بات جس کا اب میں ذکر کر رہا ہوں یہ معلوم ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ جو رب العالمین ہے اس کے علاوہ کسی پر توکل کرنے والے نہیں تھے اور کسی کی احتیاج محسوس کرنے والے نہیں تھے بلکہ یہ اعلان کرنے والے تھے اپنے متبعین ، اتباع کرنے والوں کو مُؤْمِنُونَ حَقًّا، جنہیں قرآن کریم نے کہا ہے کہ میری طرح تم بھی خدائے واحد و یگانہ، رب العالمین پر توکل کرو اور ہر چیز اس سے مانگو۔یہ عملی زندگی میں خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔عملی زندگی میں زندہ خدا سے زندہ تعلق، ہم کہتے ہیں، پیدا کرو یہ ہے۔ہر چیز اس سے مانگو۔قرآن حکیم بھی ہے یعنی دلیل بھی دیتا ہے۔سورہ تغابن میں فرمایا۔وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (التغابن : ۱۲) کوئی چیز خدا تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں۔ہر چیز کو وہ جانتا ہے۔تفصیل سے بھی بتایا۔تمہارے خیالات کو وہ جانتا ہے یعنی جن خیالات نے الفاظ کا جامہ نہیں پہنا، اللہ تعالیٰ سے وہ چھپے ہوئے نہیں ہیں۔جو تمہارے جذبات ظاہر نہیں ہوئے اور دل کی کیفیت ہے وہ، اس کو بھی وہ جانتا ہے علیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (التغابن : ۵) اور چودہویں آیت میں یہ کہا اللهُ لا إلهَ الا هُوَ وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ خدا ایک ہی ہے جس کی پرستش کرنی چاہیے۔وہ ایک ہی حقیقی معبود اور مقصود اور محبوب ہے ہمارا۔اور جو ایمان کا دعوی کرتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے وہ خدائے واحد و یگانہ پر صرف خدائے واحد و یگانہ پر تو گل کریں اور غیروں کی طرف نگاہ نہ اٹھا ئیں۔دوسری حکمت یہاں یہ بیان ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ پر اس لئے تو کل کرو کہ کمزور نہیں ہے وہ۔جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (الانفال: ۵۰) وه غالب ہے، طاقت والا ہے کوئی شخص اس کا ہاتھ پکڑ نہیں سکتا۔اگر تم پر رحم کرنا چاہے دنیا کی کوئی طاقت تمہیں اس کے رحم سے محروم نہیں کر سکتی۔اگر تم اسے ناراض کر دو تو کوئی طاقت اس کی ناراضگی سے تمہیں بچا نہیں سکتی۔عزیز تو اس پر تو گل کرنا چاہیے نا ، جو بنیادی طور پر ہر قسم کی طاقت کا سر چشمہ ہے اور کوئی غیر اس کے راستے میں روک نہیں اور اس پر توکل کرو کیونکہ وہ حکیم ہے، حکمت والا ہے۔انسان بعض دفعہ ایک چھوٹے بچے کی طرح جو آگ کا مطالبہ کیا اس نے ماں سے اللہ تعالیٰ