خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 277 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 277

خطبات ناصر جلد نهم ۲۷۷ خطبه جمعه ۲/اکتوبر ۱۹۸۱ء مثال دوں گا عملاً کس طرح خدا تعالیٰ دیتا ہے۔جماعت احمدیہ کے مخالف بعض دفعہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ غریب سی جماعت ہے لیکن بعض دفعہ ایسا کام کر جاتی ہے جس پہ پیسے خرچ ہوتے ہیں۔تو چونکہ وہ خدا تعالیٰ پر توکل کرنے والے نہیں ، ان کا عقیدہ یہ معلوم ہوتا ہے جیسا کہ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہودی جماعت کو پیسہ دے سکتا ہے، امریکہ پیسہ دے سکتا ہے اور جیسا کہ ایک سعودی میاں بیوی نے قرطبہ میں پچھلے سال کہا کہ جو آپ نے مسجد بنائی ہے ضرور سعودی عرب سے پیسے لئے ہوں گے۔تو سعودی عرب پیسے دے سکتا ہے۔اگر نہیں دے سکتا دولت تو خدا نہیں دے سکتا۔عجیب عقیدہ بنالیا لیکن ہم احمدی جو ہیں احمدی مسلمان، ان کا جو عقیدہ ہے ان کا جو مشاہدہ ہے وہ یہ ہے کہ پانچ چھ سال ہوئے ، کینیڈا کے مغرب میں ایک شہر ہے کیلگری۔چھوٹی سی جماعت پیدا ہوئی۔میں ان کو کہتا تھا کہ نماز ادا کرنے کے لئے ، اکٹھے بیٹھ کے میٹنگ کرنے کے لئے ، بچوں کو اسلام کے چھوٹے چھوٹے سبق دینے کے لئے قرآن کریم پڑھانے کے لئے کوئی جماعت کی جگہ ہونی چاہیے۔تو ایک گھر ہے پرائیویٹ ایک خاص شخص کا۔اس نے کہا کہ میری بیٹھک میں تم نماز پڑھ لیا کرو۔دو چار آدمیوں کی اس سے شکر نجی ہوگئی۔وہ نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔کہتے ہیں اس کے گھر میں نہیں جانا نماز پڑھنے کے لئے۔تو اگر وہ خدا کا گھر ہو اور خدا کے عاجز بندوں کی جو جماعت ہے وہ خدا کے لئے خرید لے، تو جتنی مرضی رنجشیں ہو جائیں نماز کے لئے وہ کوئی روک نہیں ہوگی۔وہاں آ جائیں۔پانچ چھ سال ہوئے انہوں نے لکھا کہ ایک چھوٹا سا مکان ( فلیٹ نہیں ) جس کا صحن بھی ہے، آگے بھی پیچھے بھی ، وہ کم و بیش ستر ہزار ڈالر کو مل رہا تھا۔( صحیح قیمت نہیں مجھے یاد ) تو نصف ہم نے یہاں آپس میں چندہ کر کے اکٹھی کر لی۔اگر جماعت کی وہ رقمیں جو کینیڈا میں پڑی ہوئی ہیں جن کو ہماری ہدایت کے مطابق خرچ کیا جاتا ہے ( یہ یادرکھیں کہ ان ملکوں میں خود ایسے چندے اکٹھے ہوتے ہیں جو ضرورت کے وقت کام آتے ہیں) ان میں سے قرض دے دیں۔ہم یہ لے لیں ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی۔ان کو میری اجازت سے ہی یہاں جو محکمہ Deal( ڈیل ) کرتا ہے ان کو رقم دے دی گئی۔یہ پانچ چھ سال کی بات ہے اور وہ مکان خرید لیا انہوں نے چھوٹا سا۔