خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 197
خطبات ناصر جلد نہم ۱۹۷ خطبہ جمعہ ۱۷ جولائی ۱۹۸۱ء اعجوبہ بن گیا طارق۔لیکن صرف طارق ہی تو نہیں جس جگہ ہماری ساری تاریخ میں خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق صبر کا نمونہ دکھا یا مسلمان نے اور کامل تو کل کیا اپنے رب پر دشمن کے تیر ان کی پیٹھ پر نہیں پڑے سینوں پر کھائے نا۔ایک صبر کے معنی ہیں آفات سماوی آتی ہیں آزمائش کے لئے اس وقت زجر نہ کرنا۔چوتھے معنی ہیں زبان پر قابورکھنا۔بہت سارے لوگوں کو عادت ہے ویسے ہی بولتے رہتے ہیں اور فتنہ پیدا ہوتا ہے اور وہ خوشحال معاشرہ اور پر امن معاشرہ جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے ان کی زبان اس میں رخنے پیدا کر دیتی ہے۔زبان پر قابو رکھنا اس معنی میں بھی صبر کا لفظ آیا ہے کہ اپنی زبان کو احکام الہی کی رسیوں میں باندھو اور جتنی ، جب اجازت ہوجس حد تک بولنے کی اس سے زیادہ نہ بولو۔نہ کرنے والی بات کر نہ دینا، گالی نہ دینا، افترا نہ کرنا، انتہام نہ لگانا، بدظنی نہ کرنا وغیرہ وغیرہ خدا تعالیٰ نے بہت سے احکام ایسے ہیں جن کے ذریعے سے زبان پر پابندیاں لگائی ہیں اور ان احکام کے مطابق اپنی زبان کا استعمال کرنا اللہ تعالیٰ کی اصطلاح میں ایک یہ بھی صبر ہے۔پانچویں، مفردات راغب میں ہے، یہ معنی ہیں اس کے کہ عبادت الہی میں جس حد تک ممکن ہو مشغول رہنا اور ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے ہر وقت مشغول رہنے کا سامان پیدا کر دیا۔جس وقت ہم با جماعت نماز پڑھ رہے ہیں وہ بھی عبادت میں مشغول ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک اجتماعی نماز کے وقت بھی میری عبادت میں تم مشغول ہو، کھڑے ہونے کی حالت میں، بیٹھے ہونے کی حالت میں ، لیٹے ہونے کی حالت میں تم میرا ذکر کر سکتے ہو اور میری عبادت میں مشغول رہ سکتے ہو، میری صفات کا ورد کر سکتے ہو، ان کے واسطہ سے مجھ سے مانگ سکتے ہو اور دعا ئیں کر سکتے ہو، اپنی ضرورتیں میرے سامنے پیش کر سکتے ہو، دعا اور صلوٰۃ میں مشغول رہ سکتے ہو ہر وقت رہ سکتے ہو اور جو دعا کرتے ہوئے سوجاتا ہے وہ سوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ، اس کو ایسا ہی ثواب دے دیتا ہے۔اور چھٹے یہ کہ اہوائے نفس کے خلاف ہر وقت جہاد میں مشغول رہنا۔یہ جو انسان کا نفس ہے نا یہ بڑا تنگ کرتا ہے انسان کو اور چوکس اور بیدار رہ کے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی عظمت اور