خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 196 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 196

خطبات ناصر جلد نهم ۱۹۶ خطبہ جمعہ ۱۷ جولائی ۱۹۸۱ء صبر کے بنیادی معنی تو ہیں استقلال کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننا اور ان کے مطابق اپنی زندگی گزارنا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام جو ہیں وہ ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور عربی زبان بہت سے بنیادی ایسے پہلوؤں کے ساتھ صبر کا لفظ استعمال کرتی ہے اس لئے مفردات راغب نے اس کے معنی کرتے ہوئے یہ کہا کہ صبر کے اصل معنی تو یہ ہیں حَثُ النَّفْسِ عَلَى مَا يَقْتَضِيْهِ الْعَقْلُ وَالشَّرْعُ کہ مضبوطی کے ساتھ اپنے نفس کو اس مقام پر قائم رکھنا جس مقام پر قائم رہنے کا عقل اور شریعت مطالبہ کرتی ہے، تقاضا کرتی ہے لیکن اس کی وہ کہتے ہیں مختلف شکلیں نکل آتی ہیں۔مصیبت کے وقت صبر کرنا ، جس کا مطلب ہے واویلا نہ کرنا ، اور کوئی ایسی بات نہ کرنا، نہ بولنا جس سے یہ معلوم ہو کہ انسان کا تعلق خدا سے نہیں بلکہ اس کے غیر کی طرف وہ رجوع کر رہا ہے یا خدا تعالیٰ پر اسے کامل بھروسہ نہیں اور اس کے جو احکام ہیں جس شکل میں بھی وہ آتے ہیں ان پر وہ پوری طرح راضی نہیں۔دوسرے اس کے معنی میدانِ جنگ میں ایک کیفیت ہے اس کے متعلق بولا جاتا ہے۔وہ شجاعت ہے جس معنی میں اسلام نے اسے استعمال کیا ہے۔شجاعت کے معنی ہیں وہ بہادری جس کا تقاضا احکام قرآنی کر رہے ہیں۔مثلاً قرآن کریم نے شجاعت کے معنوں میں یہ تقاضا کیا کہ ایک وقت میں کہا کہ اگر ایک ہو گے تو دو پر بھاری یعنی ایک ہزار تم ہو گے میدانِ جنگ میں تو دو ہزار پر بھاری ہو گے۔پھر کہا تمہیں ہم روحانیت میں ترقی دیں گے تم ایک ہزار ہو گے دس ہزار پر بھاری ہو گے۔تو یہ شجاعت ، یہ ہے شجاعت جس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کہہ سکتے ہیں میدانِ جنگ میں۔بڑا بہادر تھا طارق جس نے اپنی کشتیاں جلائیں اور کامل تو گل خدا تعالیٰ پر، اس نے سوچا ہوگا شاید کہ میرے مقابلے میں ایک وقت میں میرے پاس ( کچھ اور فوج مل گئی تھی ان کو ) بارہ ہزار ہیں تو ایک لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ تو کسی میدان میں جمع نہیں ہوں گے اس واسطے مجھے کشتیوں کے سہارے کی ضرورت نہیں ، میرے لئے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کافی ہے۔کس قدر شجاعت کا مظاہرہ کیا خدا تعالیٰ کے احکام کے اوپر قائم ہو کر اور دنیا کے لئے ایک حیرت اور ایک