خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 198 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 198

خطبات ناصر جلد نہم ۱۹۸ خطبہ جمعہ ۱۷؍جولائی ۱۹۸۱ء اس کے جلال کو سامنے رکھے بغیر انسان اپنے نفس سے کامیاب جنگ نہیں کر سکتا۔تو وَاسْتَعِينُوا بِالصّبرِ میری مدد حاصل کر وصبر کے ساتھ۔اور جوصبر ہے وہ عاجزی کے بغیر تم نہیں کر سکتے۔مثلاً ہم نے صبر کے معنی کئے تھے مصیبت کے وقت جزع فزع نہ کرنا۔جو عاجز بندہ ہے وہ تو کہے گا کہ جو جتنی دیر میں اس مصیبت سے امن میں رہا اس کا بھی میرا کوئی میرے رب پر حق نہیں۔تو جب وہ چیز مجھ سے لے لی گئی اور میرے اوپر بے اطمینانی کے حالات پیدا ہو گئے تو میں کیا شکوہ کروں خدا سے۔جب وہ اطمینان جو میرے پاس تھا وہ میرا حق نہیں تھا تو جو مجھ سے لیا گیا وہ میرا حق چھینا نہیں گیا لیکن اگر کوئی شخص کہے میں اتنا بڑا ، میرے رب نے میرے پر یہ ظلم کر دیا ، بے صبری کی بات ہوگئی نا، عاجزی کی بات نہ رہی نا، تکبر کی بات ہو گئی نا فخر کی بات ہوگئی نا، اباء کی بات ہوگئی نا، شیطانی کلمہ منہ سے نکل گیا نا، زبان پر قابو نہ رکھنا مثالوں پر گیا تو بہت مثالیں دیں تو دیر ہو جائے گی۔اکثر زبان کا وار جو ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑنے والا ، وہ اپنی بڑائی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ایک عاجز بندہ اپنی زبان سے دوسرے کو دکھ دے ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ نے تو یہاں تک حکم دیا کہ شرک سب سے بڑا گناہ ، مشرک کو میں اس کا گناہ معاف نہیں کروں گا لیکن تمہیں میں تمہاری زبان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ جن بتوں کی وہ پرستش کر رہے ہیں ان کو تم گالی دو وَ لا تَسُبُوا الذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ (الانعام :۱۰۹) کہ جو شخص خدا کے اس حکم کو توڑ کے بت کو گالی دیتا یا کسی اس کے بندے کے خلاف بدزبانی کرتا ہے وہ جس کے خلاف بد زبانی کرتا ہے اس سے خود کو بڑا سمجھتا ہے نا بھی اس نے اپنا یہ حق سمجھانا کہ اس کو گالیاں دینی شروع کر دیں، بدزبانی اس کے خلاف شروع کر دی۔تو جب تک صحیح اور حقیقی خشوع نہ ہو، عاجزی نہ ہو، انکسار نہ ہو، تواضع نہ ہوصبر کے تقاضے نہیں پورے کئے جا سکتے اور اسی واسطے میں نے شروع میں کہا کہ جو صبر ہے وہ عاجزی اور انکسار کی بنیادوں کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔دوسرے ہے صلوٰۃ۔صلوۃ کے معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔