خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 176

خطبات ناصر جلد نہم ۱۷۶ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۸۱ء ایسے غلط واقعات آپ کو خدا تعالیٰ بیدار رکھنا چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ آپ اسی کی طرف ہمیشہ جھکے رہیں کسی اور کی طرف نہ جائیں۔اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ آپ اسے چھوڑ کے دوسروں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھیں اور ان سے مدد کے طالب ہوں۔اس واسطے یہ ساری چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔اب چند ہفتے ہوئے ایک خاص مطبع خانہ میں چھپا ہوا ہمارا ترجمہ جو ہے اس پر پنجاب کی حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے پابندی لگائی۔یہ پتہ نہیں کہ اس پابندی میں کون کون شریک ہے بہر حال جو ہمیں نظر آتا ہے۔بدظنی ہم نہیں کرتے۔ہوم سیکرٹری کی طرف سے پابندی لگائی گئی اور پابندی لگائی یہ کہہ کے کہ یہ غلط ہے۔قرآن کریم جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں عربی زبان میں نازل ہوا اور جب کہا جائے کہ ترجمہ غلط ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ لغت عربی کے خلاف ہے۔اس وجہ سے اسلامی عہد میں بہت سی لغات شائع ہوئیں۔اس پر بڑی محنتیں کی گئیں۔مفردات راغب بھی قرآنی الفاظ کی ایک لغت ہے جو صرف قرآن کریم کے الفاظ پر اس لغت نے بحث کی ہے۔کوئی ایک لفظ ایسا نہیں ( ہما را ترجمہ جو ہے ) جس کا ترجمہ لغت عربی کے خلاف ہو۔دوسرے کہا کہ اس لئے ہم پابندی لگا رہے ہیں کہ یہ Arbitrary ہے۔پہلے محاورہ تھا تفسیر بالرائے۔اب یہ نیا محاورہ بن گیا کہ ترجمہ بالرائے۔Arbitrary کے معنے ہیں ترجمہ بالرائے۔Arbitrary کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا ترجمہ ہے جس کی تائید قرآن کریم کی دوسری آیات نہیں کر رہیں۔احمد یہ جماعت کی طرف سے طبع شدہ کوئی ایسا ترجمہ نہیں ہے نہ کوئی ایسی تفسیر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات اس کی تائید نہ کر رہی ہوں۔تیسری بات اس حکم میں یہ کہی گئی ہے کہ جو ہوم ڈیپارٹمنٹ کا Accepted اور Acknowledged ترجمہ ہے یعنی مستند ترجمہ ہے، ان کے نزدیک۔جو ہوم ڈیپارٹمنٹ کے نزدیک مستند ترجمہ ہے اس کے خلاف ہے۔یہاں اختلاف پیدا ہو گیا۔پہلے تو یہ سوال ہے کہ مستند کیسے سمجھا جائے۔چونکہ کوئی فہرست نہیں انہوں نے ساتھ لگائی اس لئے عقلاً