خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 175

خطبات ناصر جلد نہم ۱۷۵ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۸۱ء پسند نہیں کرتے کہ یہ لوگ عیسائی بن جائیں اور اس طرح پھیل جائے یہاں عیسائیت اور اس سٹیٹ کی ، صوبہ کی شکل بدل جائے اور اس وقت تو برابر برابر ہیں پھر وہاں عیسائیوں کی اکثریت ہو جائے تو فوری طور ریہاں چار اور سکول کھولیں۔ایک پہلے وہاں موجود تھا۔اس عرصہ میں کھل بھی گئے ان میں سے دو۔باقی بھی کھل جائیں گے۔اس میں کچھ وقت لگتا ہے۔ان کی طرف سے زمین ملنی ہے پھر مکان تعمیر ہونا ہے۔ہم تو انتظام کر دیتے ہیں استادوں کا۔لیکن یہ اعلان کرنا حکومت کا کہ ہم سے مقابلہ نہیں ہوتا اس واسطے آپ یہاں آئیں اور عیسائیت کا مقابلہ کریں اور جو بت پرست ہیں ان کو مسلمان بنا ئیں اور عیسائی کو بھی مسلمان بنا ئیں۔وہاں ایسے بھی واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ ایک ذہین نوجوان سکول کالج کا۔اس کو لیا اور پادری بنانے لگے۔بائیبل پڑھائی یہ کیا اور وہ کیا اور جب اس کی تعلیم ختم ہونے کو تھی تو وہ احمدی مسلمان ہو گیا۔یہ علم کا زمانہ ہے۔یہ فراست کا زمانہ ہے۔ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی انسانیت لیکن سو یا ہوا انسان جب نیم بیدار ہوتا ہے اس کا جسم ہلنا شروع ہوتا ہے۔بیدار ہونے سے پہلے اس قسم کی کیفیت نوع انسانی پر ہے۔جو نیم بیدار ہیں وہ اندھیرے میں ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہمیں۔بہت آگے نکل گئے مہذب بن کر مادی لحاظ سے لیکن بے اطمینانی ہے۔ہمارا دل مطمئن نہیں ہے۔اطمینان قلب کے لئے ہمیں کچھ دو اور پھر وہ ہماری تفاسیر، تفسیر کی شکل میں یا مضامین کی شکل میں یا کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جومختلف مضامین پر بحث کی ہے اس کی شکل میں وہ پڑھتے ہیں پھر ان پراثر ہوتا ہے۔پس ساری دنیا احمد یہ تفسیر اور ترجمہ کی طرف (ساری دنیا تمام براعظم کی بات میں کر رہا ہوں ) اس تفسیر اور اس ترجمہ کی طرف کھنچی آرہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں مہدی معہود علیہ السلام کو سکھائی تھی۔اور غلط فہمیاں بھی ہیں دنیا میں۔میں نے بتایا نا کہ افریقہ کے ایک ملک میں ہماری تفسیر ضبط ہوگئی تھی۔یہاں ہمارے ملک میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک کتاب پر Ban کیا پھر اٹھا لیا۔پھر دوسری پر Ban لگا یا پھر اٹھا لیا۔ہوتے رہتے ہیں