خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 508 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 508

خطبات ناصر جلد نهم ۵۰۸ خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۸۲ء تمہیں پچھتاوا ہو گا کہ کیوں ہم نے یہ حرکت کی۔تو اللہ تعالیٰ بعض سے نہیں لیتا، بعض سے لیتا ہے، جن سے وہ لیتا ہے ان کی شکل دو طرح سامنے آتی ہے، دو شکلیں بنتی ہیں۔ایک یہ کہ یبط جو مال لیتا ہے اس میں بڑھوتی کرتا ہے اور ایک یہ شکل ہے کہ مال لیتا ہے اور بڑھوتی نہیں کرتا۔سزا کے طور پر تو وہ انعام نہیں نا ملتا۔جو شخص اپنے مال کے بھروسے پر اور اس کو ذریعہ بنا کر خدا تعالیٰ کے منصوبہ کو نا کام کرنے کی کوشش کرے، جب ایسے گروہ سے دولت اللہ تعالیٰ واپس لیتا ہے تو بڑھا کے دینے کا تو سوال۔نہیں پیدا ہوتا۔یہ تو سزا ملی ہے ان کو۔تو ویبضط کے بھی دو معنی ہوں گے یعنی ایک ذکر جس کا نہیں کیا لیکن اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں کہ وہ بڑھاتا ہے اور ساتھ اس کے یہ کہ وہ چاہے تو نہیں بھی بڑھاتا۔اور جن کا مال وہ لیتا ہے اور اپنے فضل اور اپنی رحمت سے یہ مالی قربانی وہ قبول کرتا ہے اور اس قربانی کو قبول کرنے کے نتیجہ میں بنقط وہ ان کی دولت کو ، ان کے اموال کو، مادی اموال کو بھی ، مادی دولت کو بھی اور روحانی طور پر بھی جو نعمتیں ہیں ان میں وہ برکت ڈالتا ہے اور بہت بڑھوتی ہے ان میں۔یہ جو میں نے دوسری زندگی کے متعلق کہا کہ وہ بھی اس میں شامل ہے اس کی طرف یہی آیت اشارہ کر رہی ہے کیونکہ اسے ختم کیا ( چھٹی بات یہ بتائی )۔آخر تمہیں اسی کی طرف لوٹا یا جائے گا۔وَاللهُ يَقْبِضُ وَ يَبْقطُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُونَ اور جب اس کی طرف لوٹا یا جائے گا تو جو اموال خدا نے تمہارے قبول کئے ہوں گے۔(جب تم پیش کرو گے اللہ قبول کرے گا )۔جب قبول کرے گا ان میں بڑھوتی کرے گا۔جب بڑھوتی کرے گا تو اس زندگی میں بھی وہ اس کا بدلہ دیتا ہے لیکن مرنے کے بعد جو ہے بدلہ وہ تو اس قدر حسین اور وسعتیں رکھنے والا ہے کہ عَرْضُهَا السموتُ وَالْأَرْضُ (ال عمران : ۱۳۴) کہ آسمان وزمین کی دولت ایک آدمی کی جنت کی دولت کے برابر ہے۔اس واسطے جماعت احمد یہ جو قربانی دیتی ہے خدا تعالیٰ کی راہ میں ، اس کا ذکر جب میرے دورہ میں مثلاً عیسائیوں کے سامنے بھی ہو تو ان کے لئے بڑا عجوبہ ہے وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ایک