خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 509
خطبات ناصر جلد نهم خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۸۲ء اپنے ہوش و حواس میں اپنی کمائی ہوئی دولت ۱/۱۰ یا ۱/۵ یا ۱/۳ کس طرح اس خدا کے حضور پیش کر دیتا ہے جس خدا کو وہ پہچانتے نہیں اور اسی وجہ سے انہیں سمجھ نہیں آرہی۔ان کو یہ تجربہ نہیں کہ خدا تعالیٰ اس زندگی میں بھی اس وعدے کے مطابق جو قرآن کریم میں پہلے سے کر دیا گیا ان کی دولت میں برکت ڈالتا ہے اور ان کی زندگی کو خوشحال بنا تا اور فکروں سے انہیں آزاد کرتا ہے اور مرنے کے بعد بھی ایسی زندگی ہے جس کا وہ تصور نہیں کرتے۔اس وقت یہ ان کی بدقسمتی ہے، کہ ایک ایک آدمی کو جو انعامات ملیں گے، ایک آدمی کے انعامات کی قیمت سارے آسمانوں اور زمین کی قیمت سے زیادہ ہے۔تو قربانی دیتے ہیں ہم یا ہم کہتے ہیں کہ ہم قربانی دیتے ہیں مگر اس معنی میں کہ ہم نے خدا کے لئے کوئی تکلیف اٹھائی، اس معنی میں تو ہم قربانی نہیں دیتے۔ایک پیار کا جذبہ، ہماری اپنی دولت کے لئے ہمارے دل میں حقارت پیدا کرتا ہے۔اپنے رب سے پیار اور غلبہ اسلام کی مہم کے لئے ہم خدا تعالیٰ کے حضور پانچ روپے سے لے کر ( پانچ روپے دینے والے بھی ہیں چندہ۔یہ جو سال ختم ہو رہا ہے اس میں بہت سارے ہوں گے جو پانچ روپے چندہ دینے والے ہوں گے ) قربانی دینے والے ہیں ان کو بھی خدا تعالیٰ اتنے انعام دیتا ہے اس دنیا میں۔ایک تو یہ کہ اتنی بڑی برادری دے دی پیار کرنے والی۔دنیا میں کوئی غریب ایسا نہیں۔( یہ جو دنیا ہے نا امراء کی اور مہذب دنیا اسے میں شامل کر رہا ہوں ) جس سے ایک کروڑ بھائی اس کا اس سے پیار کرنے والا ہو۔سوائے احمدی غریب کے، کیونکہ احمدیت میں غریب اور امیر کا تصور ہی نہیں۔سب کو اللہ تعالیٰ نے اسلام میں ایک مقام پر لا کے کھڑا کر دیا ہے۔یہ ٹھیک ہے بعض کمزوریاں بھی ہیں ، لڑبھی پڑتے ہیں۔زبان سے ایذا بھی بعض دفعہ دے دیتا ہے احمدی احمدی کو لیکن نظام ان کو فوری توجہ دلاتا ، اور اصلاح کی کوشش کرتا ہے یا وہ احمدیت چھوڑ کے باہر نکل جاتے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ اور ہمارا ماحول اور ہماری فضا ایسی ہے جہاں امیر اور غریب کا ، کالے اور گورے کا کوئی فرق اور امتیاز ہی نہیں ہے۔تھوڑا سا پیار میں نے ایک عیسائی بچے کو ائر پورٹ پر ( کئی سال کی بات ہے ) کیا تھا اور