خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 466
خطبات ناصر جلد نهم ۴۶۶ خطبه جمعه ۱۶ را پریل ۱۹۸۲ء قرآن کریم نے صرف یہ اعلان نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ مفسدین سے سے پیار نہیں کرتا اور انہیں پسند نہیں کرتا بلکہ فساد کی جو تعریف اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے اسے بھی بیان کیا ہے اور اسے دور کرنے کا جو طریق ہے اس پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔فساد قرآن کریم کی اصطلاح میں حق تلفی کا نام ہے، ظلم کا نام ہے۔حق کو تلف کرنا برا ہے۔حق وہی ہے جو حقیقی ہو۔اگر انسان خود اپنے حقوق بنالے جو اس کے حق نہیں ہیں اور کوئی شخص ان کو توڑنے والا ہو تو وہ قابل الزام خدا تعالیٰ کے نزدیک نہیں۔اس لئے قرآن کریم نے حقوق کو قائم بھی کیا اور ان کی حفاظت کے سامان بھی پیدا کئے۔قرآن کریم نے انسان کے حقوق بھی قائم کئے اور اس کائنات کی دیگر ہر شے کے حقوق بھی قائم کئے۔لیکن اس وقت میرا موضوع صرف انسان سے تعلق رکھتا ہے۔انسان کا حق وہ ہے اصولاً جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہو اور جو اللہ تعالیٰ نے حق قائم کیا انسان کا ، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو قوتیں اور صلاحیتیں اسے دیں ، ان کی نشوونما کے لئے جو سامان اس نے پیدا کیے وہ اسے میسر ہوں اور قوتوں اور صلاحیتوں کی نشوونما کے راستہ میں روک نہ بنا جائے ، نہ ان سامانوں کو جو اس کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اس سے چھینا جائے۔اگر قوم قوم کے حقوق کو پہچانے اور ان حقوق کی ادائیگی کے لئے تیار ہو تو بین الاقوامی فضا میں نہایت ہی حسین امن کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔قرآن کریم نے ، جو فساد پیدا ہوتا ہے، اس کے متعلق ایک تو یہ فرما یا کہ حق کا علم ہونا چاہیے اور صحیح حق وہ ہے جو خدا تعالیٰ قائم کرتا ہے۔ہمیں بتایا کہ حق تلفی مختلف طریقوں سے ہوتی ہے، مختلف وجوہات کی بنا پر حقوق کو غصب کر لیا جاتا ہے۔ایک تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کو پہچانا ہی نہیں، کسی انسان یا کسی جماعت یا کسی گروہ یا کسی ملک یا کسی خطہ ارض میں۔چونکہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کو پہچان ہی نہیں۔اور پھر ان کی حق تلفی میں ، حقوق کی ادائیگی میں جان بوجھ کر بھی غفلت ہوئی کیونکہ خوف کوئی نہیں تھا۔اور غفلت ہو جاتی ہے بے خیالی میں بھی ، ستی میں بھی، بیدار مغزی نہ ہونے کی وجہ سے بھی، یاد دہانیوں کے فقدان کی وجہ سے بھی کسی ایسے نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے بھی جو وَ ذَكِّرْ فَإِنَّ الذكرى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الذُریت:۵۶) کے تحت