خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 467
خطبات ناصر جلد نهم ۴۶۷ خطبه جمعه ۱۶ را پریل ۱۹۸۲ء قائم ہو۔جب بتایا جائے تو سمجھنے والے بھی ہوں اور جب سمجھنے والے ہوں تو بتانے والے بھی ہوں۔دونوں چیزیں اس میں ہمارے سامنے رکھیں۔اگر حق تلف ہو جائے تو اس حق تلفی کے نتیجے میں جو فساد پیدا ہوا ہے اسے دور کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ باہم گفت وشنید کے ذریعے سے دور کرنے کی کوشش کی جائے اقوام عالم سر جوڑیں اور حقوق کی ادائیگی کا سامان پیدا کر کے فساد کو دور کرنے کی کوشش کریں اور اگر کوئی ملک یا بہت سے ملکوں کا مجموعہ بضد ہوں کہ ہم نے جو اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق ہیں انہیں بہر حال ادا نہیں کرنا تو وہ جو سمجھ رکھتے ہیں وہ اپنی پوری طاقت کا استعمال کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس وقت اور اس موقع پر اور ان حالات میں وہ اپنی دوستیوں کو قربان کریں اور امن عامہ کو قائم کرنے کے لئے اپنی دوستی کو بھی ، اپنے اموال کو بھی ، اپنی جانوں کو بھی ، اپنی نسلوں کو بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہو جا ئیں تا کہ اس دنیا میں امن پیدا ہو۔بہر حال قرآن کریم حقوق کو قائم کرتا ہے، حقوق کی تعریف کرتا ہے حقوق کو قائم کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے، طریقے بتاتا ہے، وضاحتیں کرتا ہے، بڑی تفصیل میں گیا ہے۔اگر فساد پیدا ہو تو اس کو کیسے دور کیا جائے ؟ ان راہوں کو بھی روشن کرتا ہے۔اگر ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں اور لالچ کے نتیجہ میں یادشمنی کی وجہ سے یا تعصب کی بنا پر حق تلفی ہو رہی ہو تو ان لوگوں پر جن کو خدا تعالیٰ نے عقل اور سمجھ عطا کی اور نور فراست انہیں دیا اور قرآن کریم جیسی عظیم شریعت ان کے ہاتھ میں پکڑائی انہیں حکم دیا گیا ہے کہ تم ہر چیز قربان کر کے نوع انسانی کے لئے امن کے سامان پیدا کرو۔بہر حال قرآن کریم نے ان ساری باتوں کے نتیجہ میں یہ اعلان بھی کیا کہ اگر فساد ہوگا تو فساد کے دو نتیجے نکلیں گے۔ایک اس دنیا میں بے چینی پیدا ہوگی۔امن کی زندگی پھر نہیں تم گزارو گے اور دوسرے احکام الہی کو نظر انداز کرنے اور شریعت کے قانون کو توڑنے کی وجہ سے اُخروی زندگی میں بھی کوئی چین کی زندگی تمہیں نصیب نہیں ہوگی۔ان بشارتوں کے حق دار تم نہیں ہو گے جو قرآن کریم نے دی ہیں تو یہ زندگی اور آنے والی زندگی ہر دو بے چین زندگی ، سکون سے خالی زندگی، خدا تعالیٰ کی محبت سے محروم زندگی خدا تعالیٰ کے قہر سے معمور زندگی ایک جہنم کی زندگی ہوگی۔