خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 426
خطبات ناصر جلد نهم ۴۲۶ خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۸۲ء حاصل کر چکے ہیں، بعض نہیں کر سکے ، ان کے پاس جا کے کامیابی کے ساتھ ایسی باتیں کرے، ایسے رنگ میں اسلام ان کے سامنے پیش کرے کہ وہ اس کے حسن سے متاثر ہوسکیں اور جب تک جسم صحیح طور پر نشو و نما حاصل نہ کرے اور ذہن اپنی کامل رفعتوں تک نہ پہنچے اور اخلاق اپنے کمال کو نہ پائیں روحانیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور روحانیت کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں اپنے احمدی بچوں کو ، نو جوانوں کو اور ان لوگوں کو جو اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں کہ کھیلیں، اس لئے کھیلو تا کہ تم خدا تعالیٰ کا زیادہ تقرب حاصل کر سکو۔کیونکہ جس طرح چار منزلہ مکان جو ہے اس کی پہلی منزل بہت مضبوط بنیادوں کے اوپر قائم ہونی چاہیے۔جو میں بات کر رہا ہوں وہ جسم ہے۔تو اگر پہلی منزل مضبوط بنیاد پر قائم ہی نہیں ہوگی تو دوسری منزل کو وہ سہا رہی نہیں سکے گی۔اگر اتنی مضبوط نہیں ہوگی کہ تین منزلوں کا بوجھ وہ سنبھال لے تیسری منزل نہیں بن سکے گی۔اگر اتنی مضبوط نہیں ہوگی بنیاد کہ وہ چار منزلوں کا بوجھ سنبھال سکے تو چار منزلیں نہیں بن سکیں گی اور چوتھی منزل تک تو ہماری زندگی کا مقصود ہے پہنچنا۔اس لئے اسلام یہ فلسفہ ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ کھیلو اس لئے محض نہیں کہ کھیل میں ایک لذت ہے، کھیل میں خود صحت ایک سرور انسانی جسم میں پیدا کرتی ہے۔اس لئے نہ کھیلو کہ تم نے پیسے بنانے ہیں۔اس نیت سے نہ کھیلو کہ تم نے لوگوں کے لئے خوشی کا سامان پیدا کرنا ہے۔اس لئے کھیلو کہ تم نے خود ان ذمہ داریوں کو جو بہت ہی عظیم ہیں ، جو بہت وزنی ہیں ، جو بہت ضروری ہیں ، جو بہت ارفع ہیں اٹھا سکو۔اگر تم اپنی کھیل کے نتیجے میں اپنے جسموں میں یہ قوت پیدا نہیں کرتے تو تمہارا دوڑنا اور جسم کو مضبوط بنانا اس سے مختلف نہیں ہو گا جس طرح ایک ہرن یا ایک شیر جو ہے وہ کھانے کے بعد ورزش کرتا اور اپنے جسم کو مضبوط بناتا ہے اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔میں نے ایک جگہ پڑھا کہ شیر بعض دفعہ جانور مار کے تو من، ڈیڑھ من گوشت کھا جاتا ہے ایک وقت میں لیکن من۔ڈیڑھ من گوشت کو ہضم کرنے کے لئے پھر وہ پچاس میل چلتا ہے اور پھر کھانا کھاتا ہے پچاس میل کے بعد۔تو اس کی زندگی کا چکر ہی یہ ہے کہ اتنازیادہ گوشت کھالو پھر پچاس میل چلو پھر اس کو ہضم کر لو پھر نئے سرے سے بھوک لگے اتنا گوشت کھانے کی۔لیکن انسان