خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 427 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 427

خطبات ناصر جلد نهم ۴۲۷ خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۸۲ء میں اور شیر میں فرق ہے اور انسان میں اور لومڑ میں فرق ہے۔وہ اپنی زندگی قائم رکھنے کے لئے ورزش کرتے ہیں۔بعض دفعہ انسان سے زیادہ ورزش کرتے ہیں جیسا کہ میں نے شیر کی مثال دی لیکن اس سے آگے ان کا قدم نہیں بڑھتا۔انسان نے تو آگے قدم بڑھانا ہے۔انسان نے تو صحت جسمانی سے ایک قدم آگے بڑھا کے اپنے ذہنوں میں جلا پیدا کرنی ہے اور پھر اور قدم آگے بڑھانا ہے اور اپنے اخلاق میں ایسا حسن پیدا کرنا ہے کہ جس حسن میں دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس نظر آئے۔پھر ایک اور قدم آگے بڑھانا ہے اور اپنے خدا کے پیار کو حاصل کرنا ہے روحانی میدان میں اور اس پیارے کی یہ آواز سنی ہے کہ جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو چار بنیادی صفات اللہ تعالیٰ کی بیان کی گئی ہیں ، ان کے متعلق جو روشنی ڈالی ہے اپنی تفسیر میں مختصر میں اس کو لیتا ہوں کیونکہ اصل جوڑ میرے دماغ نے انہی کے ساتھ باندھا ہے ان باتوں کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ( الفاظ میرے ہیں کیونکہ میں نے نقل نہیں کئے ،مفہوم نوٹ کیا ہوا ہے ) فرماتے ہیں کہ اللہ رب العلمین ہے یعنی پیدا کرنا اور کمال مطلوب تک پہنچانا تمام عالموں میں جاری وساری ہے۔اس میں انسان میں اور دوسری چیزوں میں فرق نہیں بلکہ حیوانات سے بھی آگے چلتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں یہ ربوبیت باری تمام ارواح واجسام حیوانات میں، نباتات میں، جمادات وغیرہ پر مشتمل ہے اسے آپ نے فیضانِ عام کا نام دیا اور یہ جو تقسیم کی ہے آپ نے ، نباتات و جمادات کا ایک گروپ اور اجسام وحیوانات کا دوسرا اور ارواح کا تیسرا اس میں یہ شکل بنتی ہے کہ اس سارے عالمین میں وہ اشیاء جن کا تعلق نباتات و جمادات سے ہے مثلاً کا نین ہمیشیم اس کے اندر نمک آجاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اور یہ جو نباتات ہیں کھیتیاں ہیں، یہ درخت ہیں، یہ جنگل والے درخت ہیں، یہ پھل والے درخت ہیں یہ ساری چیزیں جو ہیں یہ نباتات میں آتی ہیں۔یہ ساری کی ساری چیزیں حیوانات کی خدمت کر رہی ہیں، حیوانات واجسام کی خدمت کر رہی ہیں اور جو حیوانات و اجسام ہیں یعنی حیوانات کے اجسام، وہ سارے کے سارے