خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 377

خطبات ناصر جلد نهم ۳۷۷ خطبه جمعه ۲۵؍دسمبر ۱۹۸۱ء آوے اور تمام حالتیں کیا اخلاقی اور کیا ایمانی اور کیا تعبدی ایسی ہی بدلی ہوئی نظر آویں کہ گویا ان پر اب رنگ ہی اور ہے۔غرض جب اپنے نفس پر نظر ڈالے تو اپنے تئیں ایک نیا آدمی پاوے اور ایسا ہی خدا تعالیٰ بھی نیا ہی دکھائی دے اور شکر اور صبر اور یاد الہی میں نئی لذتیں پیدا ہو جا ئیں جن کی پہلے کچھ بھی خبر نہیں تھی اور بدیہی طور پر محسوس ہو کہ اب اپنا نفس اپنے رب پر بکلی متوکل اور غیر سے بکلی لا پروا ہے اور تصور وجود حضرت باری اس قدر اس کے دل پر استیلا پکڑ گیا ہے کہ اب اس کی نظر شہود میں وجو د غیر بکلی معدوم ہے اور تمام اسباب بیچ اور ذلیل اور بے قدر نظر آتے ہیں اور صدق اور وفا کا مادہ اس قدر جوش میں آ گیا ہے کہ ہر یک مصیبت کا تصور کرنے سے وہ مصیبت آسان معلوم ہوتی ہے اور نہ صرف تصور بلکہ مصائب کے وارد ہونے سے بھی ہر یک درد برنگ لذت نظر آتا ہے۔تو جب یہ تمام علامات پیدا ہو جائیں تو سمجھنا چاہیے کہ اب پہلی ہستی پر بکی موت آ گئی۔اس موت کے پیدا ہو جانے سے عجیب طور کی قوتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں پیدا ہو جاتی ہیں۔وہ باتیں جو دوسرے کہتے ہیں پر کرتے نہیں اور وہ راہیں جو دوسرے دیکھتے ہیں پر چلتے نہیں اور وہ بوجھ جو دوسرے جانچتے ہیں پر اٹھاتے نہیں ، ان سب امور شاقہ کی اس کو توفیق دی جاتی ہے کیونکہ وہ اپنی قوت سے نہیں بلکہ ایک زبردست الہی طاقت اس کی اعانت اور امداد میں ہوتی ہے جو پہاڑوں سے زیادہ اس کو استحکام کی رُو سے کر دیتی ہے اور ایک وفادار دل اس کو بخشتی ہے۔تب خدا تعالیٰ کے جلال کے لئے وہ کام اس سے صادر ہوتے ہیں اور وہ صدق کی باتیں ظہور میں آتی ہیں کہ انسان کیا چیز ہے اور آدم زاد کیا حقیقت ہے کہ خود بخود ان کو انجام دے سکے۔وہ بکلی غیر سے منقطع ہو جاتا ہے اور ماسوا اللہ سے دونوں ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور سب تفاوتوں اور فرقوں کو درمیان سے دور کر دیتا ہے اور وہ آزمایا جاتا اور دکھ دیا جاتا ہے اور طرح طرح کے امتحانات اس کو پیش آتے ہیں اور ایسی مصائب اور تکالیف اس پر پڑتی ہیں کہ اگر وہ پہاڑوں پر پڑتیں تو انہیں نابود کر دیتیں۔