خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 376 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 376

خطبات ناصر جلد نہم خطبه جمعه ۲۵؍ دسمبر ۱۹۸۱ء خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوئے پھر آپ فرماتے ہیں :۔وو معلوم ہوا کہ اسلام کی حقیقت یہ مُؤْمِنُونَ حَقًّا کی طرف اشارہ ہے“ حضور ایدہ اللہ ) نہایت ہی اعلیٰ ہے۔اور کوئی انسان کبھی اس شریف لقب اہلِ اسلام سے حقیقی طور پر ملقب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنا سارا وجود معہ اس کی تمام قوتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بخدا نہ کر دیوے اور اپنی انانیت سے معہ اس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اٹھا کر اسی کی راہ میں نہ لگ جاوے۔پس حقیقی طور پر اُسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا جب اس کی غافلانہ زندگی پر ایک سخت انقلاب وارد ہو کر اس کے نفس اتارہ کا نقش ہستی معہ اس کے تمام جذبات کے یکدفعہ مٹ جائے اور پھر اس موت کے بعد محسن لِلہ ہونے کے نئی زندگی اس میں پیدا ہو جائے اور وہ ایسی پاک زندگی ہو جو اس میں بجز طاعت خالق اور ہمدردی مخلوق کے اور کچھ بھی نہ ہو اس کی تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آئینہ کمالات اسلام میں ہی یہ فرمائی:۔اس جگہ ہر یک بچے طالب کے دل میں بالطبع یہ سوال پیدا ہوگا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے کہ تا یہ مرتبہ عالیہ مکالمہ الہیہ حاصل کر سکوں۔پس اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک نئی ہستی ہے جس میں نئی قوتیں ، نئی طاقتیں، نئی زندگی عطا کی جاتی ہے اور نئی ہستی پہلی ہستی کی فنا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اور جب پہلی ہستی ایک سچی اور حقیقی قربانی کے ذریعہ سے جو فدائے نفس اور فدائے عزّت و مال و دیگر لوازم نفسانیہ سے مراد ہے بکلی جاتی رہے تو یہ دوسری ہستی فی الفور اس کی جگہ لے لیتی ہے اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ پہلی ہستی کے دور ہونے کے نشان کیا ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب پہلے خواص اور جذبات دور ہوکر نئے خواص اور نئے جذبات پیدا ہوں اور اپنی فطرت میں ایک انقلاب عظیم نظر