خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 296
خطبات ناصر جلد نہم ۲۹۶ خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۱ء جائے گی اور تمہیں زیادہ تو فیق دی جائے گی خرچ کرنے کی۔وہ سب رزق دینے والوں میں سے اچھا اور کامل ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور شکر ادا کرتے ہوئے اپنے اموال کو خرچ کرنے کی ایک مثال آج میں یہاں بیان کروں گا اور وہ تحریک جدید کی مد میں جو قربانی دینے والے ہیں ، ان کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا سلوک ہے وہ ہمارے سامنے ایک عظیم حقیقت بیان کرتا ہے۔آج میں تحریک جدید کے اڑتالیسویں ، اڑتیسویں اور ستر ہویں تین دفتر ہیں ان کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں۔تحریک جدید نے جو قربانیاں یا تحریک جدید میں جماعت نے جو قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی اس کی شکل یہ بنتی ہے۔میں نے اپنی خلافت کے سال سے یہ گراف ان سے بنوایا ہے۔ان اٹھارہ سال میں چار لاکھ پینتیس ہزار روپیہ تحریک جدید کی مد میں وصول ہوا تھا ۶۵ - ۶۴ء میں چندہ جات تحریک جدید اندرون پاکستان اور ۸۲-۸۱ ء کا بجٹ اٹھارہ لاکھ چالیس ہزار ہے جس کا مطلب ہے کہ ساڑھے چار سو فیصد یعنی اتنے گنا زیادہ یہ ہو گیا اس عرصے میں۔لیکن تحریک جدید کی جو آمد ہے وہ اس ملک میں ہمارے پاکستان میں اتنی خرچ نہیں ہوتی جتنا اس کا تعلق باہر کی جماعتوں سے ہے۔یہاں ہمارے خرچ جو ہیں ، یہاں کی آمد اس کا جو خرچ ہے وہ مبلغین کا تیار کرنا ، ان کے الاؤنسز دینا ، کتابیں شائع کرنا ، دفتر چلانا وغیرہ وغیرہ۔کسی وقت تحریک جدید کو جب سہولت تھی فارن ایکسچینج کی اور حکومت کچھ رقم ( زیادہ نہیں لیکن باہر بھیجنے کی اجازت دیتی تھی اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں کچھ حصہ ہماری جد و جہد اور سعی اور کوشش کا بھی شامل ہو جاتا تھا لیکن اب نہیں ہوتا۔اب سارے کا سارا جو تحریک جدید کی ذمہ داریاں پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں ان پر خرچ ہوتا ہے اور اس ضرورت کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ نے اس میں زیادتی کی ہے جیسا کہ میں بتاؤں گا اس زیادتی کے مقابلے میں بیرونی ممالک کی زیادتی بہت زیادہ ہوگئی ہے۔بیرونی ممالک میں ساری دنیا میں جماعت جو پھیلی ۶۵-۶۴ء میں اکتیس لاکھ روپیہ آمد تھی امریکہ، یورپ کی جماعتیں ، افریقہ کی جماعتیں۔کچھ نئی پیدا ہو ئیں تھیں کچھ پرانی تھیں کچھ کم تربیت یافتہ تھیں