خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 226

خطبات ناصر جلد نهم ۲۲۶ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء غیر مومن پر جو دروازہ کھلا ہے اس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ کہتے ہیں لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إلا ما سعى (النجم :۴۰) کوشش کرو گے پالو گے۔بڑا احسان کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ لیکن مومن کو یہ کہا کوشش کرو گے اور دعا کرو گے اور مقبول ہوجائے گی وہ دعا تو دوسروں سے زیادہ پالو گے۔تو یہ بات جو میں کہ رہا ہوں محض فلسفہ نہیں بلکہ چودہ سو سالہ زندگی میں اُمت مسلمہ کی یہ بات بڑی واضح ہو جاتی ہے کہ جب بھی مسلمان نے حقیقی مومن کی حیثیت سے علم کے میدان میں دوسروں کے مقابلہ میں کوشش اور سعی کی تو جو امت مسلمہ کے سکالرز اور محققین کو ملا وہ اس سے کہیں زیادہ تھا جو دوسروں کو ملا۔بڑی لمبی تاریخ ہے۔تاریخ پڑھا کریں اور یہ حقیقت پہچانیں کہ ہر مومن کے لئے ، ہر مومن مسلم احمدی کے لئے حصول علم کے زیادہ اور فراخ دروازے کھلے ہیں۔اس واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ کسی سے پیچھے نہ رہو۔تمہیں پیچھے رہنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔تو جس غرض کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے ، جو سہولتیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مہیا کی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ۔تو ایک تو ایسا عظیم رسول ( يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِهِ ) جو نُعَمَاء لے کے آیا ان میں سے پہلی نعمت آیات ہیں اور آیات میں سے صفات باری کے وہ جلوے ہیں جو اس کا ئنات پر ظاہر ہوئے جس نے کائنات پیدا کی ، جس نے کائنات میں وسعت پیدا کی ( یہ بھی قرآن کریم میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ وسعت پیدا کر رہا ہے اس کا ئنات میں ) جس نے کائنات کی ہر مخلوق کی ا صفات میں وسعت پیدا کی۔جو علم قرآن کریم پر غور کرنے سے ہمیں حاصل ہوتا ہے یہ ہے کہ گندم کا دانہ جو دو سو سال پہلے پیدا ہوا تھا اس کی وہ صفات نہیں تھیں جو صفات اس دانے کی ہیں جو آج پیدا ہو رہا ہے۔ہر وقت ہر آن خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے اپنی مخلوق کے ہر حصے پر ظاہر ہورہے ہیں۔تو ایک تو آیات کے یہ معنی ہیں اور دوسرے آیات کے معنی ہیں دعاؤں کا سننا اور قبول کرنا۔عظیم انسان ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جنہوں نے بار بار ہمارے ذہن میں اور ہمارے دل میں یہ ڈالا کہ مایوس نہیں ہونا۔دعا کر و خدا قبول کرے گا۔یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ خالق اور