خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 227
خطبات ناصر جلد نهم ۲۲۷ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء مالک ہے قبول اس وقت کرے گا جب وہ چاہے گا لیکن یہ دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔کسی کی دعا ایک سیکنڈ میں قبول ہو جاتی ہے۔میرا اپنا تجربہ ہے۔ابھی منہ سے الفاظ نہیں نکلتے کہ دعا قبول ہو جاتی ہے اور کوئی دعا قبول ہوتی ہے سال بعد دو سال بعد ، تین سال بعد، چار سال بعد، جو دعا میں نے سپین کے ملک کے لئے کی کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام کی روشنی سے منور کرے، وہ قریباً نو ساڑھے نو سال بعد قبول ہوئی۔مجھے بتادیا گیا تھا کہ جلدی قبول نہیں ہوگی ، اپنے وقت پر پوری ہوگی۔کتنا بڑا احسان ہے۔جو شخص یہ یقین رکھتا ہو اور خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت کے بعد اس مقام پر کھڑا ہو کہ وہ قادر مطلق جس کے آگے کوئی چیز انہونی نہیں وہ میری دعا قبول کرے گا اگر چاہے گا۔مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنی ہے دعا میں۔دعا کو شرائط کے ساتھ کرنا ہے خدا تعالیٰ سے کبھی نا امید نہیں ہونا۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دعا کی قبولیت کا نشان امت محمدیہ کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا دیا۔تیسرے معنی آیت کے ہیں ،نشانات کا ظاہر ہونا۔مثلاً خدا تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بے شمار نشانات ظاہر کئے۔نشانات یعنی اپنی قدرت کا نشان ( بغیر دعا کے نشان ہے یہ ) خدا تعالیٰ خود اپنے بندوں کی مدد کے لئے آتا ہے جب مدد کی ضرورت ہو۔فراخی رزق کے لئے سامان پیدا کرتا ہے جب انہیں دشواری ہو، کھانے پینے کی چیزیں نہ مل رہی ہوں۔اس وقت آسمان میں بادلوں کو حکم دیتا ہے موقع کے اوپر صحیح مقدار میں جاکے بارش برساؤ تا کہ میرے بندے جو ہیں ، بھوکے نہ رہیں۔اسے ہم نشان کہتے ہیں۔معجزات یعنی انہونی باتیں بظاہر وحی کے ذریعے ان کی بشارت دی جاتی ہے اور وہ کام ہو جاتا ہے بالکل ناممکن کام لیکن بشارت دی جاتی ہے، کام ہو جاتے ہیں۔تیسرے معنی آیات کے یہ ہیں یعنی معجزات اور معجزات کے ساتھ ہی میں چوتھے معنی کو بریکٹ کر دیتا ہوں اور وہ مبشرات ہیں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی بشارتیں دیں ہیں مومنوں کو، جو ایک علیحدہ شعبہ ہے، روحانی زندگی کا۔یہ دونوں میں نے معجزات اور مبشرات اس لئے اکٹھے کئے کہ مثلاً وَ لَقَد نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ (ال عمران : ۱۲۴) ایک تو یہ معجزہ تھا