خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 225 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 225

خطبات ناصر جلد نہم ۲۲۵ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء تقسیم کر کے بیان کیا۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ وہ آیات پڑھ کر سناتا ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات بڑی واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آیات“ کا لفظ یا ایہ“ کا لفظ جو اس کا مفرد ہے، مختلف معانی میں استعمال کیا ہے۔آیۃ کے ایک معنی قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ جلوہ صفت باری کا ، وہ جس کے نتیجہ میں مادی کائنات میں کوئی چیز پیدا ہوئی یا کسی چیز میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی یعنی صفات باری کے وہ جلوے جن جلوؤں نے کائنات کو پیدا کیا۔بے شمار مخلوق ہے اس قدر کہ انسانی عقل میں وہ آنہیں سکتی۔انسان اس کا تصور نہیں کر سکتا۔اس کے متعلق انسان کو مخاطب کر کے فرمایا قرآن کریم میں کہ اے انسان! ہر چیز تیرے لئے پیدا کی گئی ، اس قسم کا اعلان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کی زبان سے نہیں کروایا گیا۔اس لئے کہ ایک تو ان کے مخاطب صرف ایک جماعت تھی یا ایک قوم تھی، ایک چھوٹا سا زمانہ تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب نوع انسانی تھی اور ہر نسل تھی جو آپ کی بعثت کے بعد قیامت تک اس دنیا میں پیدا ہونے والی تھی ابنائے آدم کی۔تو فضل ہے نا اللہ تعالیٰ کا۔جو اس کی معرفت رکھے گا وہ حمد باری تعالیٰ W کرے گا، جو اس کی معرفت رکھے گا وہ علوم کے میدان میں ترقی کرے گا۔جب ہر چیز ہماری خادم ہے تو ہر چیز کے متعلق علم حاصل کرنا ضروری ہو گیا۔جس قدر علم انسان کو حاصل ہوا ہے اس کا ئنات کا اور علم کہتے ہی اس کو ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وہ جلوے جو ظاہر ہوئے مادی دنیا میں۔یہ علم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہوا اس زمانہ میں پہنچا اور بہت ترقی کر گیا اور سوائے صفات باری تعالیٰ کے علم کے اور کوئی حقیقی علم نہیں۔نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرة : ۲۵۶) کہ خدا تعالیٰ نے خالق کی حیثیت سے جو کچھ پیدا کیا علیم کی حیثیت سے وہ اسے جانتا ہے۔کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔وہ ان باریکیوں کو بھی جانتا ہے جن تک انسان ابھی تک نہیں پہنچا اور جس قدر خدا چاہتا ہے اس قدر انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ دعا کیا کرو رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه : ۱۱۵) تو علم کے حصول کے لئے ایک مومن پر دو دروازے کھلے ہیں اور علم کے حصول کے لئے غیر مومن پر ایک دروازہ کھلا ہے۔