خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 2 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 2

خطبات ناصر جلد نهم خطبه جمعه ۲ جنوری ۱۹۸۱ء کثرت نفوس سے آیا، زیادہ تعداد میں شامل ہونے والے آئے اس میں، دلوں کی کیفیت زیادہ بدلنے والے آثار لے کر آیا۔سننے والوں نے سنا۔محسوس کرنے والوں نے محسوس کیا اور بہتوں نے جو ہم میں شامل نہیں ابھی یا شامل نہیں تھے، اس سے فائدہ اٹھایا۔اللہ تعالیٰ کی اس آیت میں جو ہدایت ہے اس کی روشنی میں ہمیں پہلے سے زیادہ اس کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔اس لئے کہ آنے والا جلسہ جانے والے جلسہ کے مقابلہ میں زیادہ برکات لے کر آئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل زیادہ ہوں۔زیادہ تعداد میں دوست اس میں شریک ہوں۔انتظام پہلے سے بھی بہتر ہو۔دکھوں کو پہلے سے زیادہ دور کرنے والا ہو۔دنیا پر احسان کی زیادہ تدابیر سوچی جائیں۔اس کے لئے زیادہ تربیت کی جاسکے اور صرف آنے والا جلسہ ہی نہیں خدا کرے کہ ہماری زندگی کا ہر آنے والا دن پہلے دن سے اللہ تعالیٰ کی برکات سے زیادہ معمور ہو اور ہر آنے والے دن میں ہمارا دل اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر میں پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہر روز اعمال مقبول، اعمال مشکور کی توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ دنیا پر رحم کرے اور جس عذاب اور ہلاکت کی طرف آج کی دنیا بڑھتی چلی جارہی ہے اس کے بچاؤ کے اس کے لئے سامان پیدا کرے۔یکم جنوری سے وقف جدید کا سال شروع ہوتا ہے اور جو کل یکم تھی اس سال کی ہجری شمسی کے لحاظ سے ۱۳۶۰ سال ہے اور وقف جدید کا جو نیا سال شروع ہے وہ چوبیسواں سال ہے۔ان چوبیس سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید نے آہستہ آہستہ اور بتدریج ترقی کی طرف قدم بڑھایا ہے۔وقف جدید کی اصل ذمہ داری تو یہ ہے کہ جگہ جگہ پہ ہمارے واقفین وقف جدید بیٹھیں اور جماعت کی تربیت کریں، نئے داخل ہونے والوں کی بھی اور نئے شعور اور بلوغت کو پہنچنے والوں کی بھی۔جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی میں نے جماعت سے کہا تھا کہ اگر ہر جماعت میں ایک واقف وقف جدید ہم نے بٹھانا ہے تو جتنی جماعتیں ہیں اس تعداد میں ہمارے پاس واقفین ہونے چاہئیں اور چونکہ یہ واقفین آٹے کے بنا کر یا موم کے بنا کر بھیجے نہیں جاسکتے۔بہر حال انسان ہوں گے۔اس