خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 1

خطبات ناصر جلد نهم 1 خطبه جمعه ۲ / جنوری ۱۹۸۱ء وقف جدید کے چوبیسویں سال کا اعلان خطبه جمعه فرموده ۲ /جنوری ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیہ کریمہ تلاوت فرمائی:۔وَمَنْ يَشْكُرُ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ - (لقمن : ۱۳) پھر فرمایا:۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی ذات کی طرف تو ساری حمد رجوع کرتی ہے۔الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعلمین اس بات کا محتاج نہیں کہ اس کے بندے اس کا شکر ادا کریں۔بندے اس بات کے محتاج ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں پائیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔اگر اللہ تعالیٰ کے بندے اللہ تعالیٰ کی جس قدر نعمتیں ہوں اسی قدر اس کا شکر ادا کرتے چلے جائیں۔فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنفیسہ۔جو اس شخص یا اس جماعت کے فائدہ ہی کے لئے ہے، اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت نہیں۔شکر زبان سے بھی ہے اس کی حمد بہت کرنی چاہیے۔شکر کا ایک جذبہ بھی ہے جو انسان کے دل اور اس کے دماغ میں پیدا ہوتا ہے اور ہر وقت اس کی کیفیت ایک ایسے شخص کی ہوتی ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کے نتیجہ میں سوائے حمد کے اس کے وجود میں کچھ باقی نہیں رہتا۔ہمارا جلسہ آیا اور گزر گیا۔پہلے جلسہ سے زیادہ شان میں آیا۔زیادہ برکتیں لے کر آیا۔