خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 3

خطبات ناصر جلد نہم خطبہ جمعہ ۲؍ جنوری ۱۹۸۱ء واسطے انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچے کو اس تحریک میں بھی وقف کرے اور اگر چہ تعلیم کا معیار اس کے لئے کم ہے۔آٹھویں جماعت کا بھی بعض دفعہ لے لیتے ہیں اگر ہوشیار ہو اور دسویں جماعت غالباً شرط ہے ان کی (اس وقت میرے ذہن میں نہیں ) لیکن تعلیم کا معیار جو کم ہے اس سے یہ مطلب لینا درست نہیں کہ ذہانت کا معیار بھی کم ہے۔اس سے یہ مطلب لینا درست نہیں کہ اخلاص اور ایثار کا معیار بھی کم ہے۔ہمارے بہت سے واقفین وقف جدید ایسے بھی ہیں جو بعض شاہدین سے زیادہ اخلاص اور جوش اور جذبہ اور ایثار کے ساتھ کام کرنے والے ہیں۔ہمیں تو ہر شخص ہمیں تو ہر احمدی ایک واقف چاہیے یعنی اپنے کاموں کی ، دنیوی کاموں کی ذمہ داریاں بھی نباہ رہا ہو اور اپنی اُخروی زندگی کی ذمہ داریاں بھی اس سے زیادہ جوش اور جذ بہ کے ساتھ نباہنے والا ہو۔ایک تحریک میں نے کی تھی کہ ایسے واقفین ہوں جو اپنے گاؤں سے آویں اور چند ہفتوں کا نصاب ان سے کروایا جائے اور وہ واپس جا کے اس معیار پر لیڈر بنیں ، قیادت سنبھالیں ، اپنے اپنے معیار پر قیادت سنبھالنی ہوتی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے اس طرف توجہ نہیں کی اور مجھے افسوس ہے کہ یہاں سے جو نصاب ختم کر کے گئے ، ان میں سے بہت نے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھا۔اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔وہ بھی وقف جدید کا ہی حصہ ہے۔چونکہ وقف جدید زیادہ تر توجہ تربیت کی طرف دیتی ہے اس لئے ایک خاص قسم کی کتب یہ شائع کرتے ہیں۔چونکہ ان کے واقفین سندھ کی جماعتوں میں بھی بیٹھے ہیں اس لئے وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں سندھی زبان میں بھی کتب مہیا کی جائیں۔چنانچہ بعض کتب سندھی زبان میں بھی وقف جدید کی طرف سے شائع ہوئیں۔بعض واقفین وقف جدید صوبہ سرحد میں بھی کام کر رہے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ ہمیں پشتو زبان میں کتب دی جائیں۔اس کی طرف بھی انہوں نے توجہ دی ہے۔ابھی ابتدا ہے اور کچھ کتب تیار ہو کے شائع ہو چکی ہیں پشتو زبان میں بھی۔فارسی کی طرف بھی ہمیں زیادہ توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ بعض لوگوں کی رویاء سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں سے جن علاقوں میں پشتو اور فارسی بولی جاتی ہے۔فارسی بولنے والے