خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 108
خطبات ناصر جلد نهم ۷۰۱ خطبه جمعه ۲۲ مئی ۱۹۸۱ء کو پورا کیا۔یہ بھی سوچتا ہوں شاید ہم نے وہ شرائط تو پوری نہیں کیں جو وعدوں کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں قرآن کریم میں۔مثلاً اسی ایک مثال کو لے لیں جو یہ وعدہ تھا کہ تم زندگی کے ہر شعبہ میں بالا دستی حاصل کرو گے خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بشرطیکہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے چلے جاؤ گے۔ایمان کے تقاضوں کو پوری طرح ادا کر نے والی تو جماعت ابھی نہیں بنی لیکن اللہ تعالیٰ نے مغفرت کی چادر کے نیچے ہماری کمزوریوں کو چھپا لیا اور اپنے وعدوں کو ہمارے حق میں پورا کر دیا اور آنا ناتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۖ أَفَهُمُ الغَلِبُونَ (الانبیاء :۴۵) ایک ایسی حقیقت بنادی ہماری زندگی میں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔میں کئی بار دوروں پر غیر ممالک میں گیا ہوں۔غیر مسلموں ، عیسائیوں، جو خدا کے بھی منکر ہیں اور مشرکوں کو میں نے یہ دلیل دی کہ دیکھو خدا نے یہ وعدہ دیا تھا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر صبح کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو وہ جماعت احمدیہ کو پہلے دن سے زیادہ طاقتور اور زیادہ تعداد میں دیکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ مہربانیاں ہمیں غافل کرنے والی نہیں ہونی چاہئیں بلکہ اور زیادہ ہشیار کرنے والی ہونی چاہئیں۔ہماری قربانیاں یا جو مطالبات اللہ تعالیٰ نے ہم سے کئے ہیں اپنی راہ میں پیش کرنے کے لئے ، جو شرائط اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے لگائی ہیں وہ قرآنِ عظیم کی عظیم تعلیم میں کھول کے بیان کر دی گئیں۔وہ صرف مالی قربانی نہیں ، وہ صرف اعمال صالحہ کی قربانی نہیں۔( اعمال صالحہ بجالانے کے لئے بھی ایک قربانی دینی پڑتی ہے)، وہ صرف خدا تعالیٰ کی راہ میں مختلف قسم کے مصائب برداشت کرنے کی قربانی نہیں۔بہت سی قربانیاں ہیں جو خدا سے پیار کرنے والی جماعت کو خدا کی رضا کے حصول کے لئے دینی پڑتی ہیں اور دینی چاہئیں کیونکہ جو پیش کیا جاتا ہے حقیر ہے لیکن جو ملتا ہے اس کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں۔تبلیغ تعلیم اسلامی یعنی جو اسلام کا حسن اور نور ہے، جو اس کی بنیادی خوبیاں ہیں اور جو اس میں قوتِ احسان ہے اور اس قدر موہ لینے والی جو تعلیم ہے اس کو دوسروں تک پہنچانا یہ جماعت کا کام ہے اور ایک وقت تھا کہ (مثلاً) افریقہ کے ممالک جو ہیں مشرقی اور مغربی افریقہ کے ممالک