خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 109 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 109

خطبات ناصر جلد نهم 1+9 خطبه جمعه ۲۲ مئی ۱۹۸۱ء وہاں کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جو اسلام کے نور ، اس کے حسن ، اس کی قوتِ احسان اور دیگر خوبیوں کو پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہو اور پہنچانے کی لگن رکھتا ہو اور اپنی زندگی کے ایک حصہ کو بعض دفعہ بڑے حصہ کو اس راہ میں خرچ کرنے والا ہو۔اپنی زندگی کے نسبتاً کم حصہ کو دنیا کمانے پر خرچ کرنے والا اور زیادہ حصہ کو خدا کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرنے والا ایک بھی نہیں تھا، باہر سے جاتے تھے۔( یہاں سے ہمارے گئے ہیں) مبلغین بڑے فدائی، بڑے جاں نثار، وہ وہاں کچھ لینے کے لئے نہیں گئے ، تجارت کرنے کے لئے نہیں گئے حالانکہ تجارت کی بڑی راہیں وہاں کھلی ہوئی تھیں لیکن ان کی ساری توجہ اس بات کی طرف تھی کہ قرآن کریم کی تعلیم سے ان لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔پچھلے جلسہ سالانہ پر مصطفی صاحب جو تشریف لائے تھے سیرالیون سے اور بڑے سیاستدان اور وزراء میں سے تھے وہ۔جب میں ۷۰ ء میں گیا ہوں ایک موقع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہا کہ جماعت احمدیہ سے پہلے ہم مسلمان، اسلام کے متعلق اگر کسی مجلس میں بات ہو جاتی ، گردنیں جھکانے پر مجبور ہو جاتے تھے، بات نہیں کر سکتے تھے۔پھر احمدی آئے۔پھر انہوں نے اسلام کی بنیادی طاقتیں جو ہیں، حسن بھی ایک طاقت ہے، نور بھی ایک طاقت ہے، قوتِ احسان تو ہے طاقت ، اسلام کی جو طاقتیں تھیں نور تھا اسلام کا حسن تھا عظیم تعلیم ، انسان سوچتا ہے ،غور کرتا ہے، عمل کرتا ہے خوبی ہی خوبی ایک کے بعد دوسری ، دوسری کے بعد تیسری، بے شمار خوبیاں اسلامی تعلیم میں نکلتی چلی آرہی ہیں۔پہلی بار ہماری زندگیوں میں احمدیوں نے اسلام کا حسن اور خوبی جو ہے اس سے روشناس کرایا ہمیں اور اب وہ زمانہ گزر گیا۔اب کسی مجلس میں اگر اسلام کی بات ہو تو ہم گردنیں اونچی کر کے اسلام کے متعلق بات کرنے لگ گئے ہیں۔ساتھ وہ یہ بھی کہتے تھے تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد کہ میں احمدی نہیں لیکن جو صداقت ہے اسے چھپا بھی نہیں سکتا۔یہ باہر سے جانے والے لوگ تھے اور آج ان ملکوں میں مقامی باشندوں میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جن کے متعلق بعض دفعہ یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے وہ مبلغ جو واقفین زندگی کہلاتے ہیں اور وہاں ان کو بھیجا جاتا ہے تبلیغ کے لئے اگر سارے نہیں تو بہت ساروں سے زیادہ