خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 34
خطبات ناصر جلد نهم ۳۴ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۱ء وجه یہ تکلیف نہ بنے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے بہت بڑا گناہ ہے لیکن جو شرک کا مرتکب ہونے والا ہے اس کو سزا دینا یا معاف کرنا یہ میرا کام ہے تمہارا نہیں ہے۔تم نے ایک مشرک کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں پہنچانی۔تو قرآن کریم کوئی معمولی کتاب نہیں۔نہ پانچ دس باتوں پر اسے مشتمل سمجھا جاسکتا ہے کہ بس اسی پر مشتمل ہے یہ اور کوئی باریکیاں اور حسن اور نور اور وہ وسعت جس نے ہماری زندگیوں کا احاطہ کیا ہوا ہے وہ اس میں نہیں یہ غلط بات ہے۔زندگی اسلام میں ہو کر گزارو جس کو ہم دوسرے لفظوں میں کہتے ہیں فنا فی اللہ ہونا یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس کے ہر حکم کے سامنے سر جھکا دینا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اسلام کے ایک معنی یہ ہیں کہ جس طرح ایک بکرا مجبوراً قصائی کی چھری کے سامنے اپنی گردن رکھ دیتا ہے اسی طرح تم جبر سے نہیں بلکہ اپنی خوشی اور رضا سے خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی گردن رکھ دو اور اس کے بعد ایک نئی زندگی کو حاصل کرو اور اس کے بعد أُولبِكَ لَهُم عُقْبَى الدار میں جو وعدہ دیا گیا ہے اس کے وارث بنو۔اس چھوٹی سی آیت میں دراصل اسلامی تعلیم کا خلاصہ بیان کر دیا گیا۔خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑ نا ، وفا سے زندگی گزارنا ، ثبات قدم ہونا، کسی ایک حکم میں بھی اس کی ناراضگی مول نہ لینا۔دوسرے یہ کہ ان چیزوں کے حصول کے لئے محض اپنی طاقت اور صلاحیت کو کافی نہ سمجھنا، محض اپنے اخلاص اور صحت نیت پر بھروسہ نہ کرنا بلکہ یہ جاننا سب کچھ کرنے کے بعد کہ میں نے کچھ نہیں کیا اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے اعمال کے شامل حال نہ ہو اور وہ اپنی رحمت سے میرے اعمال کو قبول نہ کرے۔اس وقت تک ان کی وہ جز انہیں نکل سکتی جس کا وعدہ اس آیت میں کیا گیا۔تیسرے یہ کہ جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی، مال دیا، دولت دی ، اثر اور رسوخ دیا، علم دیا اور فراست دی، ہزار باتوں میں مہارت کا ملکہ دیا، زندگی دی، اولاد دی۔ہر چیز کو خدا تعالیٰ کی امانت سمجھنا اور ہر چیز سے سلوک اس حکم کے مطابق کرنا جو خدا تعالیٰ نے دیا اور