خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 35
خطبات ناصر جلد نهم ۳۵ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۱ء سرًّا وَ عَلَانِيَةً احکام بجالا نا بڑا وسیع حکم ہے یہ انفاق یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بھی دیا، اس میں سے خرچ کرنا۔بعض باتیں ہیں جو سزا کی جاتی ہیں بعض چیزیں ہیں جو علانیہ کی جاتی ہیں۔بعض اعمال ہیں جو دونوں طرح کئے جا سکتے ہیں یعنی کبھی اعلانیہ کبھی مخفی طور پر۔مثلاً تہجد، تہجد کی نماز بنیادی طور پر سرا ہے تنہائی میں اپنے محبوب اللہ کا اظہار کرنا خدا تعالیٰ سے عاجزانہ دعائیں کرنا، اس کی حمد کرنا، کسی کو دکھ نہیں پہنچانا، کسی کو ستانا نہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایک رات گشت کی مدینے کی۔اگلے دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم تہجد بہت اونچی آواز سے پڑھ رہے تھے۔یہ کیوں؟ انہوں نے عرض کی کہ میں اس طرح اپنے شیطان کو درے مار رہا تھا قرآن کریم سے بھاگتا ہے وہ۔آپ نے کہا نہیں اس طرح اتنی اونچی آواز سے نہیں پڑھنا۔آواز اتنی ہونی چاہیے بالکل خاموش بھی نہیں، یہ یاد رکھیں تہجد کی نماز کے متعلق یا اور دعا ئیں جو آدمی کرتا ہے تنہائی میں اس کے متعلق بنیادی حکم یہ ہے کہ نہ بالکل دل میں کرو دعا کہ اپنے کان تک بھی آواز نہ آئے خیال ہی خیال میں رہے، یہ صحیح ہے کہ خدا تعالیٰ کو دلوں کا حال معلوم ہے وہ جانتا ہے تمہارے دل میں کیا خیالات دعائیہ گزر رہے ہیں۔اسی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سوال کیا آپ نے کہ اتنی آہستہ کیوں پڑھ رہے تھے کہ آواز ہی نہیں نکلی منہ سے۔آپ نے عرض کی خدا تعالیٰ تو دلوں کا حال جاننے والا ہے اس کے سامنے اونچی بولنے کی کیا ضرورت ہے۔آپ نے کہا ٹھیک ہے، اس کے سامنے تو اونچی بولنے کی ضرورت نہیں مگر تمہیں اتنا اونچی ضرور بولنا چاہیے دُعا کے وقت کہ تمہارے اپنے کان تک تمہاری آواز پہنچ جائے۔اب میں نے تین دفعہ الْحَمدُ لِلهِ کہی تو میرے اپنے کانوں نے بھی نہیں سنی آپ نے بھی نہیں سنی یہاں اور اگر میں اس طرح کہوں گھر میں لاؤڈ سپیکر تو کوئی نہیں لگا ہوا الْحَمْدُ لِلَّهِ ، الْحَمْدُ لِلهِ ، اَلْحَمْدُ لِلهِ ( آہستہ آواز میں۔ناقل ) میرے کان نے سن لی ہے اور اگر وہاں لاؤڈ سپیکر نہیں ہے تو آپ کے کان یا میرے پاس بیٹھا ہوا بھی نہیں ٹن سکے گا جہاں بیچ میں ایک دیوار آ گئی وہ بھی نہیں سن سکے گا۔اپنے گھر کے جو چھوٹے بچے ہیں وہ Disturb ( ڈسٹرب ) نہیں ہوں گے تو وہ دعائیں جو تنہائی میں کی جاتی ہیں۔ان کے متعلق حکم یہ ہے کہ وہ سرا ہوں خصوصاً 66