خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 33

خطبات ناصر جلد نهم ۳۳ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۱ء کہ قرآن کریم کے ہر حکم کے پابند رہو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں نماز پڑھ لی مسجد میں آکے ، یہ کافی ہے۔بعض لوگ میرے علم میں ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد میں آکر لمبے لمبے نوافل پڑھ لئے اور لوگوں کی نظر میں آگئے بزرگ بننے کے لئے یہ کافی ہے۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رمضان کے روزے بھی رکھ لئے اس کے ساتھ تو پھر تو کوئی شبہ نہیں رہا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر وہ فضل نازل کرے گا جو ان لوگوں پر ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کی طلب میں صبر اور ثبات قدم کا نمونہ دکھاتے ہیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نماز اور روزے کے ساتھ اگر جج ہو جائے ، اگر میں زکوۃ دے دوں تو یہ کافی ہے۔یہ نہیں۔قرآن کریم نے سات سو سے زیادہ احکام بیان کئے جو ہماری زندگیوں کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم قیامت کے دن تم سے سوال کرے گا تمثیلی زبان میں بات کی ، کہ آیا تم قرآن کریم پر عمل کرتے رہے ہو یا نہیں ؟ قرآن کریم نے صرف یہ نہیں کہا کہ نمازیں پڑھو، دعا ئیں کرو، روزے رکھو، حج کرو، زکوۃ دو، قرآن کریم نے صرف یہی نہیں کہا کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ(البقرۃ: ۴) کہ جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے اس میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کے حکم کے مطابق خرچ کرو۔اتنا بھی نہیں یعنی سارے احکام کی پابندی بھی کافی نہیں اس کے لئے بھی ایک شرط لگا دی۔وَ يَدُرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ - تمہیں دیا تو الحَسَنَةِ گیا ہے لیکن تمہارے اوپر یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اس حسنہ کے ذریعے فسادنہ پیدا ہو بلکہ برائی اور فساد اور فتنے کو دور کرنے والے ہو تم۔قرآن کریم نے صرف یہ جو موٹی موٹی چیز میں ہیں پانچ دس صرف ان کا حکم نہیں دیا۔قرآن عظیم تو بڑی عظیم کتاب ہے، اس نے یہ بھی کہا ہے کہ میرے جیسی عظیم کتاب کو اتنی بلند آواز سے نہ پڑھو کہ کسی دوسرے کو تکلیف پہنچے اس کی وجہ سے ہمسائے میں ایک بیمار پڑا ہے۔رات کو اس کے شدید در داٹھا ( مثلاً ) صبح تین بجے تک وہ تڑپتا رہا۔دوائیاں اس کو دی گئیں۔تین بجے اس کی آنکھ لگی اور ہمسائے اگر زور زور سے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیں جس سے اس بیمار کی نیند خراب ہو۔قرآن کریم کہتا ہے تم قرآن تو پڑھ رہے ہولیکن گناہ کر رہے ہو۔قرآن کریم نے کہا ہے مجھے پڑھنا ہے تو علی مُکث اس طریقے پر پڑھو کہ کسی اور کے لئے تمہاری تلاوت تمہارا پڑھنا