خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 96 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 96

خطبات ناصر جلد نهم ۹۶ خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۱ء جوانسان بادشاہ کو حق دیتا ہے کہ جس چیز کو چاہے پسند کرے اور قبول کر لے لیکن اپنے خدا سے جو خالق اور مالک ہے یہ توقع رکھتا ہے کہ ہر رطب و یابس جو ہم اس کے حضور پیش کریں وہ اسے قبول کر لے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے جس چیز کو چاہتا ہے، جن اعمال صالحہ کو پسند کرتا ہے قبول کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ تمہیں پاکیزگی بخشتا ہے،طہارت پر قائم رہنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔پاکیزہ اعمال تم سے سرزد ہوتے ہیں اور وہ تم سے خوش ہوتا ہے اور اپنے قرب کی راہیں تمہارے اوپر کھولتا ہے وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَنِي مَنْ يَشَاءُ اگر خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ قرار دے اس وقت تک وہ پاک نہیں ہوسکتا۔اس لئے اس میدان میں عاجزانہ راہوں کو چھوڑ نا ہلاکت کی راہ کو اختیار کرنا ہے۔سورۃ النجم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَاكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ آجِنَّةُ b فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ٣٣) خدا تعالیٰ تمہیں اس وقت سے جانتا ہے جب تمہارے جسم کے ذرے ابھی مٹی میں ملے ہوئے تھے اور اس نے ان ذروں کو اٹھایا اور ایک مادی جسم پیدا کر دیا۔وہ اس وقت سے تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو زمین سے پیدا کیا۔پھر کم و بیش نو مہینے تم اپنی ماں کے پیٹ میں رہے۔نہ ماں کو پتا تھا کہ یہ بچہ کیسا ہے نہ اس بچے کو ہوش تھی کہ میں کیا بنوں گا لیکن خدا جانتا تھا۔پس وہ اس وقت سے تم کو خوب جانتا ہے جب کہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں پوشیدہ تھے۔پس اپنی جانوں کو پاک مت قر اردو - فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُم پاک قرار دینا اسی کا حق ہے جو اس وقت سے علم رکھتا ہو جب ذرات زمین ابھی جسمانی روپ میں ظاہر نہیں ہوئے اور بچہ بن کے ماں کے پیٹ میں نہیں گئے اور اس وقت سے جانتا ہے کہ جب ماں بھی نہیں جانتی تھی کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ کیسا نکلے گا اور نہ اس بچے کو کوئی ہوش تھی اس لئے فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمُ اپنی جانوں کو پاک مت قرار دو۔هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقی یہ فیصلہ کرنا کہ متقی کون ہے اسی ہستی کا کام ہے جو اس وقت سے زمین کے ذروں کو جانتا ہو جس نے جسم بننا ہے اور جو ماں کے رحم میں بچہ کروٹیں لے رہا ہے (اس میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے ایک وقت کے بعد ) صرف اللہ جانتا ہے۔نہ ماں جانتی ہے نہ باپ