خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 95
خطبات ناصر جلد نهم ۹۵ خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۱ء یہ میرا اور آپ کا کام نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس سلسلہ میں قرآن کریم نے جو ہدایت دی وہ غیر مشتبہ اور واضح اور بین ہے۔اس وقت میں تین آیات کو لے کے آپ کے سامنے پیش کروں گا۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے :۔وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَيِّ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ - ( النور : ۲۲) اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رم تم پر نہ ہوتا تو کبھی بھی تم میں سے کوئی پاک باز نہ ہوتا لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے پاک بازا سے قرار دیتا ہے اور پاک بازا سے بنادیتا ہے۔اللہ تعالیٰ بہت سننے والا ہے۔سمیع ہے۔تمہارے بلند دعاوی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی فیصلہ نہیں کرنا۔ہر بات جو تمہارے منہ سے نکلتی ہے وہ سنتا ہے۔ہر خیال جو تمہارے دل میں گزرتا ہے علیہ اسے وہ جانتا ہے۔سینوں کے حالات سے واقف ، جو زبانوں پر تمہاری آتا ہے وہ اس سے پوشیدہ نہیں لیکن محض تمہارے دعادی کے نتیجہ میں تمہیں وہ پاکیزہ اور مطہر نہیں قرار دے گا بلکہ جس پر چاہے گا اپنا فضل نازل کرے گا۔جسے پسند کرے گا اپنی رحمت سے نوازے گا۔جسے چاہے گا ایسے اعمال کی توفیق عطا کرے گا جنہیں چاہتا ہے کہ بندے اس کے حضور پیش کریں اور جن اعمال کو چاہے گا اور پسند کرے گا انہیں وہ قبول کر لے گا۔انسان اپنی جہالت کے نتیجہ میں انسان کو تو یہ حق دینے کے لئے تیار ہو گیا کہ جب کچھ اشیاء پیش کی جائیں اس کے سامنے تو ان بہت سی اشیاء میں سے جسے چاہے پسند کر لے اور جسے چاہے واپس کر دے۔مسلمان بادشاہ جو حاکم رہے ہیں ہندوستان کے ایک وقت میں جب خوشامد بہت بڑھ گئی ان کی تو لوگ ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایک ایک ہزار تحفہ ایک عید کے موقع پر ان کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان کا دستور یہ تھا کہ مثلاً ایک کپڑا پسند کر لیا ان پانچ سو نہایت قیمتی کپڑے کے تھانوں میں سے جو ان کے سامنے رکھے گئے اور کہا باقی تم واپس لے جاؤ جس طرح چاہو استعمال کرو۔ملک کے لحاظ سے اقتصادی طور پر فائدہ بھی تھا اس میں۔لیکن ان کی ایک چیز اٹھا لیتے تھے وہ اپنی رعایا میں سے ایک فرد کو خوش کرنے کے لئے۔