خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 97
خطبات ناصر جلد نهم ۹۷ خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۱ء جانتا ہے نہ خود بچہ جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے آئندہ۔یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ صرف مجھے اختیار ہے اور مجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔اللہ جانتا ہے اس کا کام ہے کہ وہ کس شخص کو متقی قرار دے، کسے متقی قرار نہ دے۔اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کر دے جنون کی کسی حالت میں کہ میں بھی ان ذرات کے وقت سے جب ابھی جسم نہیں بنے تھے جانتا ہوں بعض لوگوں کو اور ماں کے پیٹ میں جب وہ کروٹیں لے رہے تھے اس وقت سے میں جانتا ہوں اور میں منتقی قرار دیتا ہوں ، یہ تو جنون ہوگا۔ہر آدمی کہے گا کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے اور تیرے حواس کو درست کرے۔پس اعلان یہ ہو گیا قرآن کریم میں کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے جو اس وقت سے تم کو جانتا ہے کہ تم زمین میں مادی ذرات کی شکل میں تھے۔پھر اس نے تمہیں اکٹھا کیا اور ایک جسم دیا۔انسان کو خلق کیا اور احسن صورت بنائی دوسری آیت میں ہے۔اس وقت سے جانتا ہے جب یہ احسن صورت بنانے کی Process شروع ہو چکی تھی ماں کے پیٹ میں۔وہ جانتا ہے کہ اس نے تمہیں کون سی صلاحیتیں اور قوتیں اخلاقی اور روحانی طور پر دیں ، وہ جانتا ہے کہ تم نے انہیں ضائع کر دیا یا ان کی صحیح نشو ونما کر کے اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا۔یہ بات خدا کا پیار ملا یا نہیں ملا یہ تو خدا ہی بتا سکتا ہے نا۔اس واسطے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُم یہ حکم دے دیا۔b اور سورہ نساء میں یہ فرمایا۔اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ أَنْفُسَهُمْ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا - أَنْظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَكَفَى بِهِ إِثْمًا مُبِينًا - (النساء:۵۱،۵۰) کیا تجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیں جو اپنے آپ کو پاک قرار دیتے ہیں۔ان کا یہ حق نہیں ہے۔اللہ جسے پسند کرتا ہے اسے پاک قرار دیتا ہے۔وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُنظُرُ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ کہ دیکھ وہ کس طرح اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں۔جب وہ کسی کو پاک اور مطہر قرار دیتے ہیں تو اس کا تو مطلب یہ ہے نا کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پاک اور مطہر ہے وہ۔خدا تعالیٰ کہتا ہے دیکھو۔وہ کس طرح خدا پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور