خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 657 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 657

خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۰ء ہر شعبہ زندگی اور ہر علم کے میدان میں حقیقی را ہنما قرآن کریم ہے خطبه جمعه فرموده ۲۵ را پریل ۱۹۸۰ء بمقام مسجد احمد یہ۔اسلام آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات تلاوت فرمائیں:۔طه - مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى - إِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى - تَنْزِيلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمواتِ الْعُلَى - الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى - اللهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءِ الْحُسْنى - (طه: ۲ تا ۹۰۶) اور پھر حضور انور نے فرمایا:۔۲۵ / مارچ کو مجھے گردے میں انفیکشن کی تکلیف ہوگئی تھی۔اس کا علاج ایلو پیتھک اینٹی بائیوٹک سے کرتی ہے، وہ کیا گیا جس کے بعد کچھ الجھن پیدا ہوگئی۔اس دوائی نے انفیکشن کو تھوڑا بہت آرام پہنچا یا لیکن گردے کو نقصان پہنچادیا اور گردوں نے کام کرنا کم کر دیا پورا چھوڑا تو نہیں۔پھر وہ اینٹی بائیوٹک دوائی چھوڑنی پڑی اور پیشاب آور دوائیں اور اس قسم کی دوسری دوائیں میں نے استعمال کیں ایلو پیتھک کی بھی اور چونکہ دو دن بہت زیادہ تکلیف گردے کے کام نہ کرنے کی پیدا ہوگئی تھی اس لئے طب یونانی کی پیشاب آور دوائی لی اور ہومیو پیتھک کی بھی دوائی کھائی۔