خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 658 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 658

خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۲۵ اپریل ۱۹۸۰ء اب خدا کے فضل سے گردوں نے وہ کام کرنا تو شروع کر دیا ہے لیکن اس عرصہ میں میری کمزوری بہت بڑھ گئی ہے لیکن جو باتیں چند مہینوں سے میں جماعت کے سامنے رکھ رہا ہوں میری بیماری یا کمزوری کی نسبت بہت زیادہ ان کی اہمیت ہے اس لئے میں یہاں آ گیا ہوں تا کہ کچھ یاد دہا نیاں اس جماعت کو میں بالمشافہ بھی کرا دوں۔ہمارے لئے ، ہماری زندگی کی کامیابی کے لئے ، ہماری فلاح کے لئے ، ہماری دنیوی اور دینی ترقیات کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کلام قرآن کریم کی شکل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا اس کی عظمتوں کو جانے بغیر ہم دنیوی علوم کے حصول اور استعمال میں صحیح طریقے پر ترقی نہیں کر سکتے اور ان دنیوی علوم کو جانے بغیر جن کا تعلق خدا تعالیٰ کی صفات کے ان جلوؤں سے ہے جو خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ سے تعلق رکھتے ہیں خدا تعالیٰ کے اس کلام کی عظمتوں کو ہم پہچان نہیں سکتے۔دونوں چیزیں ایک دوسرے سے بڑا گہرا تعلق رکھتی ہیں لیکن اصل قرآن عظیم ہے۔ایک گروہ وہ بھی ہے جس کے متعلق کہا گیا۔يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ۳۱) ایک جماعت وہ بھی ہے جن کے متعلق قرآن کریم میں آیا نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِايْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا - (التحريم : ٩) میں نے یہ کام خاص توجہ کے ساتھ چھ سات مہینے سے شروع کیا ہے ویسے تو شروع خلافت سے میں آپ کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں۔جو کام میں چاہتا ہوں کہ جماعت کرے اور جس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ جب تک جماعت اس مقام کو حاصل نہیں کرے گی اپنے مقصد کو پانہیں سکتی ، وہ یہ ہے کہ ہر شخص کو قرآن کریم سے محبت ہونی چاہیے اور قرآن کریم کے نور سے حصہ لینے کی اُسے کوشش کرنی چاہیے اُسے پڑھنا چاہیے اسے سمجھنا چاہیے۔یہ عزم کرنا چاہیے کہ اس کے مطابق میں اپنی زندگی گزاروں گا۔انسان پیدا ہوتا ہے اس کی زندگی کے چند سال ایسے ہیں جب اس کے عقلی قومی اس قدر ترقی یافتہ نہیں ہو چکے ہوتے کہ قرآن کریم پڑھ سکے یا سیکھ سکے۔اس کے بعد وہ عمر آتی ہے جب ہم