خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 377

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۷۷ خطبہ جمعہ ۲۱ / ستمبر ۱۹۷۹ء جلسے پر دوست آسکیں آئیں ہمیں معلوم ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک گاؤں جو قریباً سارا احمدی ہو چکا ہے وہ سارے کا سارا آجائے۔انہوں نے اپنے جانور بھی سنبھالنے ہیں، اپنے گھروں کو بھی سنبھالنا ہے، اپنے بیماروں کو بھی سنبھالنا ہے اپنے بوڑھوں کو بھی سنبھالنا ہے، وہاں اپنی مقامی ایسی ذمہ داریاں ہیں جنہیں چھوڑ کے وہ نہیں آسکتے۔ایک حصّہ ایسا بھی ہے صرف ایک حصہ آتا ہے۔ہر سال آنے والوں کی تعداد پچھلے سال سے بڑھی ہوتی ہے ہر سال دنیا کی جماعت احمدیہ کی تعداد بڑھ جاتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔یہ اس کا ایک منصو بہ اور تدبیر ہے جو پوری ہو رہی ہے ہزاروں کی تعداد میں دوران سال نئے احمدی ہو چکے ہوتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں بچے جو مثلاً اکیلے یہاں نہیں آسکتے تھے اور ماں باپ کے ساتھ ہی آسکتے تھے وہ اکیلے آنے والے بن گئے۔ہزاروں کی تعداد میں طفل خادم بن گیا۔خادم انصار اللہ میں شامل ہو گیا۔چھوٹا بچہ جو ہے اس کو شوق پیدا ہو گیا کہ میں نے ضرور جانا ہے۔بعض دفعہ چھ چھ سات سات سال کا بچہ پیچھے پڑ جاتا ہے کہ میں نے ضرور جلسے میں شامل ہونا ہے، میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔ہر سال ایسے نئے آتے ہیں۔بعض ان میں سے میرے سامنے بھی آتے ہیں مجھے بتاتے ہیں کہ یہ کچھ عذر بھی تھے لیکن بچوں نے کہا نہیں ہم تو نہیں چھوڑ سکتے جلسہ۔ایک تو یہ ہر سال زیادتی ہوتی ہے جلسے کی تعداد میں زیادتی ہوتی ہے کئی وجوہات کی بنا پر۔ایک یہ ہے کہ تعداد بڑھ گئی جماعت کی ، شوق پیدا ہو گیا بعض لوگوں میں جو پہلے نہیں تھا اور جو ابھی احمدی نہیں ہوئے ان کو بھی شوق پیدا ہوتا ہے کہ جلسہ دیکھ آئیں ، ان کی تعداد بھی ہر سال بڑھ جاتی ہے۔قادیان میں مجھے یاد ہے کہ دو ایک سو ایسے دوست آجاتے تھے دیکھنے کے لئے سمجھنے کے لئے تحقیق کرنے کے لئے ، اعتراض کرنے کے لئے۔اس نیت سے بھی آتے ہیں۔آئیں بے شک کون روکتا ہے، تنقید کرو۔اب یہ دوا ایک صد نہیں بلکہ پانچ ، دس، پندرہ، ہیں، پچیس ہزار کی تعداد میں آجاتے ہیں جو احمدی نہیں اس وجہ سے بھی زیادتی ہو گئی۔ایسے بھی ہیں اس علاقے کے بہت سے لوگ جو صبح آتے ہیں شام کو چلے جاتے ہیں یا آدھا دن کی کارروائی دیکھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اس سے بھی تعداد بڑھ گئی۔یہ جو تعداد یہاں رہنے والوں کی بڑھی یا یہاں آنے والوں کی بڑھی اس کے نتیجہ میں اہل ربوہ کی ذمہ داریاں بڑھ