خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 378
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۷۸ خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۷۹ء گئیں اس واسطے اب میں اس طرف آجاتا ہوں یعنی پہلے میں کہہ رہا تھا جماعت۔سو جماعت پاکستان کو میں یہ کہتا ہوں اپنی روایات کو سامنے رکھو پہلے سے زیادہ پیار کے ساتھ آؤ ، زیادہ تعداد میں آؤ۔خدا کرے کہ زیادہ برکتیں لے کے واپس لوٹنے والے ہو۔ربوہ کوصاف رکھنا ظاہری صفائی اور باطنی صفائی کے لحاظ سے اور اسی طرح زبانوں کو بھی۔کئی بے خیالی میں گند بول جاتے ہیں ، گالی دے دیتے ہیں۔باہر سے آکے یہاں آباد بھی ہورہے ہیں بہت سارے خاندان ان کو باہر کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں اور بدنام ہو جاتا ہے ربوہ۔ایک مہینہ پہلے اگر کوئی خاندان یہاں کسی گاؤں سے آ کے آباد ہو جائے اور ان کے بچے اپنے گاؤں کی گالیاں بھی سمیٹ کے ساتھ لے آئیں یہاں تو جب یہاں ربوہ میں ان کی زبان سے وہ گالی نکلے گی تو میرے پاس یہ خطا نہیں آئے گا کہ ربوہ سے پچاس میل پرے ایک گاؤں کے بچے کے منہ سے یہ گالی نکلی۔میرے پاس تو یہ خط آئے گا کہ ربوہ کے جو رہنے والے بچے ہیں، ان کے منہ سے گندی گالیاں نکلتی ہیں کیوں؟ ٹھیک ہے ان کو ضرور مجھے اطلاع دینی چاہیے ان کو ضرور غصہ آنا باہیے ان کی تربیت کیوں نہیں ہوئی لیکن مجبوری بھی ہے ایسی مجبوری نہیں کہ جو آپ دور نہ کرسکیں کا نشسلی ( Consciously) یعنی بیدار مغزی کے ساتھ چوکس رہ کے اپنے بچوں کو یہ عادت ڈالیں کہ سلام کہیں سڑکوں کے اوپر کتنا کوئی غصہ دلا دے، بچوں کو پیار بھی بڑی جلدی آجاتا ہے اور غصہ بھی بڑی جلدی آجاتا ہے کتنا ہی کوئی غصہ دلا وے زبان سے گالی نہیں نکلے گی دعا نکلے گی، سلام نکلے گا ، دعائیں کرو یہ باطنی پاکیزگی ہے جو ہمارے ماحول میں پیدا ہونی چاہیے۔پھر باطنی پاکیزگی کی بنیاد یہاں ابھی سے ہو جانی چاہیے عادتیں ڈالو ابھی سے۔جو دعائیں سب نے مل کے انشاء اللہ تعالیٰ اسی کے فضل کے ساتھ جلسہ سالانہ کے ایام میں کرنی ہیں اس کی بھی تو عادت ڈالو ابھی سے، اس کے لئے بھی تو تیاری کرو۔قرآن کریم نے فرمایا کو ارادوا الخروج لاعَةُ والهُ عُدَّةٌ ( التوبة : ۴۶) کہ جب کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو اس کے لئے تیاری بھی کرنی ہوتی ہے۔اگر کوئی کہے کہ کام تو میں نے کرنا تھا اور نظریہ آئے کہ تیاری نہیں کی تو وہ شخص منافق ہے خدا کے نزدیک۔اس کی بات ماننے والی نہیں وہ جو اس ماحول میں ستون آسمانوں تک