خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 113
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۱۳ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۹ء دل بھی اس طرف حقیقی رقت کی طرف مائل ہو جائے گا اور جو قلب کی اور روح کی عبودیت ہے اس کے نتیجہ میں جسم جو ہے وہ بھی دل اور روح کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے اور اخلاص کے نتیجہ میں انسان کا جسم بھی اعمالِ صالحہ بجالاتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ روایت منسوب ہوتی ہے تَفَكُرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِّنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَة کہ ایک گھڑی کا تفکر ساٹھ سال کی عبادت ظاہری سے زیادہ بہتر ہے۔ظاہر ہے کہ عِبَادَةُ سِتّين سَنَة یہاں اس عبادت کا ذکر ہے جس میں تفکر نہیں۔قلب اور روح کا حصہ نہیں۔یعنی جس عبادت میں ہمارا دل شامل نہیں ہوا صرف ظاہر ہے،جس عبادت میں ہماری روح پگھل کے آستانہ الہی پہ نہیں بہی یہ بھی محض نمائش ہے اور ریا ہے آپ نے سمجھانے کے لئے ستين سنة کہہ دیا۔یعنی بلوغت کی ساری عمر کی کھو کھلی عبادت سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ چھلکا ہے وہ تو کھوکھلی چیز ہے اس کے اندر تو کوئی حقیقت نہیں ، کوئی اخلاص نہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے کوئی پیار اور محبت نہیں، اس محبت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ پر قربان ہونے کی کوئی خواہش نہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے ہر چیز کو چھوڑ دینے کا کوئی عزم نہیں۔وہ عبادت تو خدا تعالیٰ قبول نہیں کرے گا۔ان آیات کے بعد دعا کی تعلیم دی ( ربنا ) اور اس میں یہ ہمیں بتایا گیا کہ دعا کی قبولیت کے لئے کوئی وسیلہ ہونا چاہیے۔یعنی کوئی ایسی شکل ہونی چاہیے کہ دعا قبول ہو جائے۔ایسی دعا جو استحقاق پیدا کر رہی ہو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قبولیت کا اور یہاں جو پہلے بیان ہوا ہے وہ یہی ہے کہ ذکر اور فکر ہر دو سے تعلق رکھنے والی عبودیت کے جو تقاضے ہیں جب وہ پورے کئے جائیں تب دعا قبول ہوتی ہے۔اگر ایک شخص ساری رات جاگ کے دعا کرے اور ہر رات جاگ رہا ہوا اپنی زندگی میں لیکن عمل نہ کرے خدا تعالیٰ کے احکام پر اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔دعا کی قبولیت کے لئے شرائط بیان کی گئی ہیں ان آیات میں اور یہی چیز میں اس وقت آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔بیان کی گئی ہیں یہ شرائط شروع میں بھی اور پھر آخر میں بھی۔پہلے تو یہ کہا کہ ذکر کرنے والے اور تفکر کرنے والے جو ہیں وہ جسم کے لحاظ سے ، بدن کے لحاظ سے بھی عبودیت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور قلب وروح کے لحاظ سے بھی عبودیت کے تقاضوں کو