خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 112 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 112

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۱۲ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۹ء نے اپنی تسلی کے لئے گراوٹوں میں لذتیں محسوس کرنی شروع کر دیں اور اس کا جواز پیدا کر لیا اور اس حد تک چلے گئے یہ عقلمند کہ انگلستان کی ملکہ کوسٹومی (Sodomy) بل پر دستخط کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔اس حد تک گراوٹ اور عقلمند بھی ہیں عربی زبان ان کے لئے عقل کا لفظ استعمال کرے گی لیکن عربی زبان ان کے لئے اُولُوا الالباب کا لفظ نہیں استعمال کرے گی۔اس واسطے کہ لب کے معنے ہیں خالص عقل جو اپنی صفائی میں اور Purity میں انتہا کو پہنچ چکی ہو اس کو عربی زبان میں کب کہتے ہیں تو یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے انسان کو خالص عقل دی تھی۔اس نے اس کو اپنی نالائقیوں کی وجہ سے اور گری ہوئی خواہشات کے نتیجہ میں ناخالص بناد یا اور گدلا کر دیا لیکن وہ لوگ جنہوں نے خالص عقل کو قائم رکھا وہ اپنی ان دو طاقتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایک ذکر سے ایک تفکر سے۔ذکر وہ کرتے ہیں ہر حالت میں يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيِّمًا وَقُعُودًا و عَلَى جُنُوبِهِمْ اور وہ تفکر بھی کرتے ہیں تفکر بھی وہ ہر حالت میں کرتے ہیں۔اس آیت سے یہی واضح ہوتا ہے عربی میں (جیسا کہ مفسرین نے اس کی وضاحت کی ہے ) ذکر اور تفکر میں فرق ہے وہ کہتے ہیں کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے۔بدن اور روح سے۔بدن سے تعلق رکھنے والی عبودیت کو ذکر کہتے ہیں اور قلب اور روح سے تعلق رکھنے والی عبودیت کو تفکر کہتے ہیں اور کامل ذکر وہ ہے جو انسان کے تمام جوارح اور اعضاء سے تعلق رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں حکم دیا نماز پڑھنے کا اور نماز کے اندر قیام بھی ہے اور رکوع بھی ہے اور سجدہ بھی ہے اور قعدہ بھی ہے اور زبان کا ذکر بھی۔یہ جسم کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔روزہ ہے اس کا ہمارے بدن کے ساتھ تعلق ہے۔ہم اپنے جسم کو بھوکا رکھتے ہیں اور حج جو ہے اس کے جو ظاہری ارکان حج ہیں وہ ہمارے جسم سے تعلق رکھنے والے ہیں۔جس عبودیت کا تعلق بدن سے ہے اس کا نام ذکر ہے يَذْكُرُونَ اللهَ قيما و قُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ اور جس عبودیت کا تعلق قلب اور روح کے ساتھ ہے اس کے متعلق کہا يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اور عبودیت کے ہر دو حصے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں یعنی جو ظاہری طور پر مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر نماز میں دعا کرتے ہوئے رقت نہ پیدا ہو تو وہ مصنوعی طور پر رقت کی حالت پیدا کرے۔آہستہ آہستہ اس کا