خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 114

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۱۴ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۹ء پورا کرنے والے ہیں اور یہاں جو ذکر اور فکر تھا اس کی روح یہ ہے کہ ہر وقت خدا کے ذکر میں مشغول رہنا اور خدا تعالیٰ کی جو مصنوعات ہیں جو خلق ہے اس سے دل کا ، ذہن کا ، روح کا صحیح استدلال قائم کرنا کیونکہ ہر چیز خدا تعالیٰ کی طرف پوائنٹ (Point) کر رہی ہے۔ایک نشان ہے جس طرح سڑکوں پر نشان ہوتا ہے۔یہ راستہ جاتا ہے لاہور کی طرف۔خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہر شے جو ہے وہ نشان ہے کہ یہ راستہ جاتا ہے خدا کو پہچاننے عرفان اور معرفت الہی کی طرف اور ذکر کرنا تفکر فی مصنوعات کرنا ربوبیت خداوندی کا اعتراف کرنا یہ شرائط قبولیتِ دعا ہیں۔ذکر اللہ میں ہمیشہ مشغول رہنا۔دل اور دماغ اور روح کے ساتھ تفکر کرنا یعنی معرفت حاصل کر کے اور معرفت اور اس عرفان کا احساس دل اور روح میں بیدار رہنا۔معرفت یہ نہیں ہے کہ کوئی چیز ملی اور جیب میں رکھ لی معرفت تو ایک احساس ہے جو روح میں پیدا ہوتا ہے جو احساس ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ بڑی عظمتوں والا خدا تعالیٰ بڑے جلال والا ، خدا تعالیٰ بڑے حسن والا نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے۔ہر چیز پر وہ قادر ہے۔کوئی چیز اس کے سامنے آن ہونی نہیں۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی دنیا کی طاقت اس کے منصوبوں کو نا کام نہیں کرسکتی۔وہ تمام صفات باری جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی بیان کی ہیں ان سب کو اپنے ذہن میں ، اپنے دل میں ، اپنے Mind میں ، قلب میں حاضر رکھنا اور روح کا اس احساس سے لذت حاصل کرنا یہ ہیں شرائط قبولیت دعا۔۔تو ربوبیت خداوندی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہنا اور اس یقین پر قائم ہونا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی فعل عبث اور باطل نہیں ہے۔بے حکمت نہیں ہے۔مصلحتوں سے خالی نہیں ہے۔ہر چیز جو اس نے پیدا کی وہ کسی مصلحت کے نتیجہ میں پیدا کی اور انسان کو بھی اس نے کسی مصلحت کے لئے پیدا کیا جس کا ذکر قرآن کریم نے یہ کہہ کے کیا ہے کہ میں نے اس لئے پیدا کیا ہے اے انسان تجھے کہ تو خدا تعالیٰ کا عبد بنے کی کوشش کرے اور اپنی تمام طاقتوں پر اس کا رنگ چڑہا کے اس کے حسن میں سے حصہ لے جو تیرے دل نے اور تیری روح نے خدا کے وجود میں دیکھا اور مشاہدہ کیا اور پھر شرط لگائی ہجرت کی اور مجبور کر کے وطن سے بے وطن کئے جانے کی۔