خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 66
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۶ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء جب انسان ، انسان سے پیار کرنا سیکھے گا۔ہمیں تو سکھا دیا سکھانے والے نے ، ہمارے استاد نے، ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ کسی انسان سے دشمنی نہیں کرنی بدخواہی نہیں چاہنی اس کی بلکہ اس کی خیر خواہی کرو۔تمہیں اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران : 111 ) لوگوں کی بھلائی کے لئے قائم کیا گیا ہے۔۷۴ء میں جماعت بڑی تکلیف میں تھی۔اس وقت مجھے زیادہ فکر اپنے گرم خون والے نوجوانوں کی تھی کہ ان سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔میں نے بڑی دعائیں کیں۔کئی مہینے تو کہہ سکتا ہوں کہ سویا ہی نہیں۔نہ سونے کے برابر سویا ہوں۔دعاؤں میں وقت گزارا ہے۔نصیحتیں کی ہیں۔بلایا ہے پیار کیا ہے۔جن کو دکھ پہنچائے گئے تھے ان سے ہمدردی کی ہے۔ان کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے ایک نقطہ اُن کے سامنے میں نے رکھا ہے کہ تم کسی کے دشمن نہیں ہو ، دشمنی کا خیال بھی نہ لانا دل میں۔میں نے کہا یہ نہیں کہ بدی کا بدی سے مقابلہ نہیں کرنا بلکہ دل میں بھی غصہ نہیں کرنا۔دعائیں کرنی ہیں ان کے لئے جو تمہیں دکھ دینے والے ہیں۔اس کے بغیر ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلنے کا صحیح دعوی نہیں کر سکتے۔ہمارا دعویٰ اگر ہے تو وہ غلط ہو جائے گا۔ظالموں نے تیرہ سال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں پر مکہ میں کتنے ظلم ڈھائے تھے اور جب خدا تعالیٰ نے اپنے قادرانہ تصرف سے ان کی گردنوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھکا دیا تلوار بھی میان سے نہیں نکلی لیکن ان کی گردنیں جھک گئیں الہی تصرف سے۔اس وقت تیرہ سالہ انتہائی مظالم کا جو بدلہ لیا وہ یہ تھا جاؤ میں نے تم سب کو معاف کیا خدا تمہیں معاف کرے۔لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ - تو لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ قرآن کریم میں آیا ہے۔ایک تپش ہے، ایک جلن ہے، ایک فکر ہے، ایک پریشانی ہے، اپنے لئے نہیں ، یہ کہ یہ لوگ جن کی ہدایت ، جن کی بھلائی جن کی خیر خواہی کے لئے ، جن پر خدا تعالیٰ نعمتیں نازل کرنا چاہتا ہے اپنی یہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلَا يَكُونُوا مُؤْمِنينَ (الشعراء: ۴) یہ بخع کی حالت ہے۔یہ صفت اتنی عظیم رنگ میں کہیں اور ہمیں نظر نہیں آتی۔کسی رسول میں بھی نظر نہیں آتی۔