خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 67
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۷ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء اور یہ جو ہے کہ ہر ایک کی خیر خواہی آپ کے دل میں تھی اس کا عملی جلوہ ہمیں یہ نظر آتا ہے اور وہ آپ کا آٹھواں وصف ہے یا صفت ہے یا مقام ہے کہ آپ ایک زندہ نبی تھے۔دنیا میں حیات جاودانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔آپ کے فیوض جو ہیں ان سے پہلوں نے بھی حصہ لیا یعنی آپ کی بعثت سے بھی پہلے اور اس کا اعلان کیا گیا کہ آدم کے وجود سے بھی پہلے جب مٹی نے آدم کا وجود بنایا اس سے بھی پہلے میں خاتم النبیین تھا۔کہا گیا کہ یہ جو اچھی باتیں ، نیکی کی باتیں ، اخلاق کی باتیں، ان غیر ترقی یافتہ اذہان کے لئے مجھ سے پہلی شریعتیں لائی تھیں وہ بھی میری کامل شریعت کا ہی ایک حصہ تھا۔اُوْتُوا نَصِيبًا مِّنَ الكتب (ال عمران: ۲۴) تو یہ زندگی ایک زندہ نبی کی (ہے) جو زندگی آدم کی پیدائش سے پہلے شروع ہوئی اور آدم کی نسل پر قیامت جب آئے اس وقت تک یہ جاری رہے گی۔آپ کے فیوض کے جلوے ہر خوش قسمت انسان اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی زندگیوں میں دیکھتا ہے اور آپ کے فیض سے ہی دنیا میں اب تبدیلیاں ہورہی ہیں۔آپ کے فیض سے ہی قرآن کریم کے بطون جن کا تعلق اس زمانہ سے تھا وہ ظاہر ہورہے ہیں۔یہ آپ ہی کا فیض روحانی ہے کہ ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جن کی زبانوں میں خدا تعالیٰ اثر پیدا کرتا اور دنیا کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس ذریعہ سے جیتے جا رہے ہیں۔خدا اس زندہ نبی پر بے شمار بے حد صلوٰۃ اور سلام بھیجے اور سلام نازل کرے۔( سلام ہم بھیجتے ہیں نازل وہ کرتا ہے ) اور دراصل درود وسلام کے مستحق وہی ہیں صحیح معنے میں باقی تو ہر انسان پہلا تھا یا بعد کا اور ہر بزرگ روحانی انسان جو پہلا تھا یا بعد کا اس نے اس کے پاس جو کچھ بھی ہے یا جو کچھ بھی آئندہ کسی کو ملے وہ طفیلی ہوگا۔اپنی ذاتی حیثیت سے کسی کو کچھ نہیں ملنا۔اس لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی پیار کرنا چاہیے اور آپ کی ہی اطاعت کرنی چاہیے اور آپ کی غلامی پر ہی فخر کرنا چاہیے اور آپ کی دعاؤں سے اپنا حصہ لینے کے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ دعائیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے جو اس زمانہ میں پیدا ہوئے کیں۔خدا تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں کا وارث بنائے اور ہماری غلطیوں کے نتیجہ میں کہیں ہم ان دعاؤں کے نیک اثرات سے محروم نہ ہو جائیں اور آپ کے فیوض سے ہمیں وافر حصہ ملے اور ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم