خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 65
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء۔تو پانچویں صفت آپ کی یہ ہے کہ آپ بنی نوع انسان کے لئے رہتی دنیا تک کامل اُسوہ ہیں اور چھٹی صفت آپ کی زندگی میں پائی جاتی ہے اور بڑی پیاری ہے اور وہ یہ کہ آپ کی دعاؤں میں بڑی گہرائی اور انتہائی وسعت ہمیں نظر آتی ہے۔باریکیوں میں گئی ہیں آپ کی دعائیں کوئی پہلو نہیں چھوڑا اور وسعتیں اتنی کہ آج چودہ سو سال کے بعد بھی ہم جو حساس دل اور نور فراست رکھنے والے ہیں یہ محسوس کرتے ہیں اپنی زندگی میں کہ ہماری زندگی بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی وجہ سے یہ زندگی ہے جو ہم گزار رہے ہیں مثلاً میں ایک مثال دیتا ہوں مشکل ہے سمجھنا بغیر مثال کے، آپ احمدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے، آپ آج یہ زندگی اس لئے گزار رہے ہیں کہ اسلام دنیا میں غالب آئے۔اس زمانہ میں اسلام کے دنیا میں غالب آنے کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں کی تھیں۔تو جو عظیم انقلاب دنیا میں چودہ سو سال بعد آنے والا تھا اس کے لئے بھی دعائیں کی تھیں اور اس نے اپنے اُس جرنیل کو ، اس روحانی فرزند کو، جس نے یہ مہم چلائی تھی اس زمانہ میں دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے ، کہا تھا میر اسلام اُسے پہنچا دینا۔سلام کیا ہے دعا ہی ہے نا۔محض دعا نہیں کی بلکہ دعا کا اعلان بھی کیا۔صحابہ کو کہا کہ میں اس کے لئے دعائیں کر رہا ہوں۔تو چھٹی صفت آپ میں آپ کی زندگی میں ہمیں آپ کا وصف یہ نظر آتا ہے کہ آپ کی دعاؤں میں میں نے بتایا کہ زیادہ تفصیل میں میں نہیں جاسکتا ورنہ ہر جو عنوان ہے اُس کے اُو پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لکھا جا سکتا ہے۔گہرائی بڑی ہے اور وسعت زمانہ کے لحاظ سے بھی اور مکان کے لحاظ سے بھی یعنی ساری زمین کا احاطہ کیا ہوا ہے۔مکان کے لحاظ سے آپ کی دعاؤں نے اور قیامت تک کے زمانہ کے لئے دعائیں کی ہیں آپ نے۔اور چھٹا وصف آپ کی زندگی میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ انسان سے اتنا پیار کرنے والا انسان۔آج کی مہذب دنیا اس نے نمائش کی ہے کچھ Show ہے اس کا ، کچھ رعب ڈالا ہوا ہے بہت سے دلوں کے اوپر۔مگر یہ پیار ہی نہیں کرنا جانتے لیکن ہم نے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنا ہے۔میں نے کئی دفعہ اپنے دوروں پر امریکنوں اور یورپین سے کہا کہ کب وقت آئے گا