خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 210
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۱۰ خطبہ جمعہ ۸/جون ۱۹۷۹ء سردی بڑھتی چلی جاتی ہے انسانی اجسام کے اندر جو نظام اور شعبے ہیں کام کرنے والے ان شعبوں میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ سردی کی شدت میں کام کرنے کے لائق ہو جاتے ہیں۔اگر وہ اسی حالت میں رہیں برفانی موسم میں جس حالت میں کہ اس وقت ہمارا جسم ہے تو سارے ہی بیمار ہو جا ئیں اور برداشت نہ کر سکیں۔لیکن بتدریج سردی سے گرمی، گرمی سے سردی ہوتی ہے اور بتدریج انسانی جسموں کے اندرسینکڑوں تبدیلیاں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا حکم اور اس کے منشا کے مطابق۔لیکن انسان بعض دفعہ غلطی کرتا ہے اور اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اپنی ہی غفلت اور غلطی کے نتیجہ میں دو چار دفعہ مجھے لو لگ گئی جس کو انگریزی میں ہیٹ سٹروک (Heat Stroke) کہتے ہیں اور جسے اس طرح دو ایک دفعہ کو لگ جائے اسے گرمی تکلیف دیتی ہے بیماری بن جاتی ہے اس کے لئے۔اس وقت میری یہی کیفیت ہے لیکن یہ تو میرا اپنا گناہ تھا کہ میں نے خیال نہیں کیا اور۔اذا مرِضْتُ میں خود اپنی غفلت کے نتیجہ میں بیمار ہو گیا اور اس کا نتیجہ میں بھگتا ہوں۔لیکن خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کر رکھا ہے انسان کے جسموں کے اندر کہ ( جس طرح تھرما میٹر کا پارہ گرمی کے ساتھ اونچا ہوتا اور سردی کے ساتھ نیچا ہوتا ہے ) اسی طرح انسانی اجسام کے نظام جو ہیں وہ Adjust کرتے ہیں، مطابق ہوتے چلے جاتے ہیں گرمی اور سردی کے تا کہ جسم تکلیف نہ اٹھا ئیں اور ان کے کام کرنے کی قوت جو ہے اس کے اندر کوئی کمزوری نہ پیدا ہو جائے۔بڑی عظمت ہے ہمارے خدا میں اور اس کی قدرتوں کے جلوے اپنی شان اور وسعتوں کے ساتھ ہمارے سامنے Unfold ہوتے ہیں۔ایک کے بعد دوسرا آتا چلا جاتا ہے اور سائنسدان (جو عقلمند ہیں ان میں سے ) وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ابھی تک ہم نے خدا کی مخلوق کا جو علم حاصل کیا وہ ایسا ہی ہے جیسا کوئی ناخن کے ساتھ دیوار کے ذراذرا سے ذرے اتارے۔اور سارا قلعہ جو ہے وہ اسی طرح چھپا کھڑا ہے ہمارا علم جو ہے اس نے تو خدا کی کائنات اور اس کی شان اور اس کی قدرتیں جو کائنات کے اندر ہیں ان کا احاطہ نہیں کیا۔ہمارے علم میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور کبھی بھی انسانی علم خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کی قدرتیں غیر محدود اور انسان کا علم محدود ہے۔