خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 211

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۱۱ خطبہ جمعہ ۸/جون ۱۹۷۹ء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد خیر خواہی ( یعنی جو آپ کو خدا تعالیٰ نے یہ صلاحیت دی کہ بنی نوع انسان کی خیر خواہی کریں اس) میں بھی بڑی وسعت ہے اور انسان کے ہر شعبۂ زندگی کا احاطہ کیا ہوا ہے خیر خواہی نے اور اس کی ہدایت کے سامان پیدا کئے اور دنیا کے ہر خطہ کا احاطہ کیا اور ہر خطہ کی ضرورتوں کے مطابق انسان کو تعلیم دے دی اور آپ اُسوہ بن گئے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہمارے افریقہ کے ایک بزرگ ہیں انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ لباس کے متعلق یہ ہے کہ جو میسر آئے وہ پہن لو۔تو یہ اُسوہ قائم کر دیا۔پگڑی بھی پہنی رومال بھی سر پر باندھا، ٹوپی بھی ہر قسم کی پہنی۔جس قسم کے سر کے بال میٹر تھے عرب کو سارے آپ نے استعمال کر لئے اور کسی کو بھی دھتکارا نہیں۔اسی طرح قمیص کا انہوں نے ذکر کیا اور شلوار اور دھوتی وغیرہ ہر قسم کے حالات میں سے آپ گزرے اور ہر قسم کا لباس استعمال کیا۔جوتی کے متعلق بھی یہی عمل رہا اور نتیجہ نکالا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ أسوہ ہے کہ جو میٹر آئے وہ پہنو۔میسر میں دو چیزیں ہیں ایک ہے کپڑا۔ایک ہے ضرورت کے مطابق کپڑا۔یہ دونوں میتر آنے کے لحاظ سے ہے۔مثلاً جہاں سردی ہے وہاں اُسوہ یہ ہے کہ سردی کے مطابق کپڑا پہنو اور جہاں گرمی ہے وہاں گرمی کے مطابق کپڑا پہنو۔اسی واسطے اسی کو دیکھ کے ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ وہ بڑا قیمتی کپڑا بھی پہنتے تھے لیکن پیار کوئی نہیں کرتے تھے کپڑے سے۔پیار کپڑا دینے والے سے ہی کرتے تھے۔بتائیں یہ رہا ہوں کہ جو خیر خواہی کا جذ بہ بنی نوع انسان کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں موجزن تھا اس کے وسعت کا احاطہ کرنا بھی میرے اور آپ کے لئے ممکن نہیں قیامت تک وہ پھیلا ہوا ہے اور ہر چیز کے متعلق زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق انسان کی ہر ضرورت کے متعلق۔ہرانسان کی عمر کے مطابق آپ نے خیر خواہی کی ، بچے کو اپنی خیر خواہی سے باہر نہیں چھوڑا۔بزرگ کو اپنی خیر خواہی سے باہر نہیں چھوڑا۔مرد کو اپنی خیر خواہی سے باہر نہیں چھوڑا، عورت کو اپنی خیر خواہی سے باہر نہیں چھوڑا۔جانوروں کو اپنی خیر خواہی سے باہر نہیں چھوڑا۔جو جاندار نہیں ہیں ان کو اپنی