خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 118
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۱۸ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء دوست ہے جو ایمان لاتے ہیں۔وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور جو کا فر ہیں ان کے دوست نیکی سے روکنے والے ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔وہ لوگ آگ میں پڑنے والے ہیں وہ اس میں رہیں گے۔پھر فرمایا۔لا إكراه في الدِّينِ دین میں کوئی جبر نہیں۔دین کے معنی لغت عربی نے یہ کئے ہیں الطاعَةُ وَالْجَزَاء اطاعت کرنا یا اعمال پر جزا کا دیا جانا۔وَاسْتَعِيرُ لِلشَّرِيعَةِ اور استعارہ اسے شریعت اور مذہب کے لئے بولا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اطاعت کے معنی کو اس آیت میں ظاہر کیا ہے وَاخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلهِ کہ انہوں نے اپنی اطاعت خدا کے لئے جو انہوں نے اطاعت کی، خدا کے حکم کو مانا اس میں انہوں نے اخلاص کا ثبوت دیا۔مخلص ہو کر اطاعت کی اور مفردات راغب میں ہے کہ اس کے معنے جو الطَّاعَةُ اطاعت کے ہیں۔فَاِنْ ذُلِكَ لَا يَكُونُ فِي الْحَقِيقَةِ إِلَّا بالاخلاص کہ حقیقی اطاعت اخلاص کے بغیر ممکن نہیں اور اخلاص جو ہے وہ جبر کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوتا۔وَالْإِخْلَاصُ لَا يَتَأَثْ فِيهِ الْإِكْرَاہ جبر کے نتیجہ میں اخلاص نہیں پیدا ہوتا اور نہ ہوسکتا ہے اور اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے حقیقی اطاعت نہیں ہوتی اور حقیقی اطاعت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی جزا سزا کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔دین کے معنی اطاعت اور جزا یا شریعت کے ہیں لیکن یہاں دین کا لفظ نہیں بلکہ الدین کا لفظ ہے یعنی وہ اطاعت جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد شریعتِ اسلامیہ میں کرتا ہے۔وہ اطاعت جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے اس کے عرفان سے اس کی معرفت حاصل کرنے کے بعد دلوں میں پھوٹتی اور جوارح سے ظاہر ہوتی ہے۔یہ وہ اطاعت ہے جس کا مطالبہ اسلام کرتا ہے اور یہ وہ اطاعت ہے جس پر اللہ تعالیٰ وہ انعامات عطا فرماتا ہے جس پر ان جنتوں کا خدا تعالیٰ نے وعدہ دیا گیا ہے، جس کی بشارتیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں اور اگر اس کے معنی شریعت کے ہوں تو الدین کے معنی ہوں گے کامل شریعت جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوع انسانی کے ہاتھ میں دیا گیا۔یہاں یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کر دی گئی ہے کہ اطاعت حقیقی کا امکان ہی نہیں جبر