خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 119 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 119

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۱۹ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء کے ذریعہ سے۔کیونکہ اس کی بنیاد اخلاص پر، اس کی بنیاد خدا تعالیٰ کے پیار پر، اس کی بنیاد خدا تعالیٰ کی معرفت کے حصول پر، اس کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی بن کر خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول پر ہے اور جبر کے ساتھ اگر کسی سے ایمان کا اعلان کروایا جائے یا جبر کے ساتھ اگر کسی سے نیکیاں کروائی جائیں یا جبر کے ساتھ کوئی شخص یہ کہے کہ میرا دل بھی تصدیق کرتا ہے کہ اسلام ایک صداقت اور بنی نوع انسان کے شرف کے لئے آیا ہے تو اس کے نتیجہ میں وہ جو عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے وہ ہستی تو کوئی جزا اس کے اوپر نہیں اس کو دے سکتی۔تو اس اطاعت و جزا کو میں نے ایک مفہوم میں بریکٹ کر دیا ہے کہ اطاعت کے ساتھ جزا کا تعلق ہے خالص اطاعت موعودہ جزا کی بشارت دیتی ہے یعنی جو مقبول اعمال ہیں اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرتا، ان سے پیار کرتا ، ان کا دوست بن جاتا ہے، ان کو جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے۔ہر اس رستے کو منور کرتا ہے جو انہیں خدا تعالیٰ کے پیار کی طرف لے جانے والی جو اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں ہیں وہ ان پر کھولی جاتی ہیں ، ان پر چلنے کی انہیں تو فیق عطا کی جاتی ہے۔یہ چیزیں جبر سے نہیں ہوتیں اور نہ اس قسم کی جزا، اس کی جزا جو ہے یا اس پر ثواب جو ہے وہ ان اعمال پر مل سکتا ہے، جزامل سکتی ہے یا ثواب مل سکتا ہے جو جبراً کر وائے جائیں۔یہاں خدا تعالیٰ نے ایک دلیل بڑی واضح کر کے دے دی قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ضلالت اور گمراہی کا فرق کھول کر بیان کر دیا۔ہر شخص جو اپنی فطرتی قوتوں کی صحیح نشو نما کرنے والا ہے اگر اسے صحیح غور و فکر کی توفیق ملے تو وہ اس نتیجہ پہ پہنچے گا بغیر کسی جبر کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین اس کی بھلائی اور خیر کے لئے ہے لیکن جو شخص ہوائے نفس کے بندھنوں میں خود کو باندھ لے اور شیطان کا غلام ہو جائے تو ظاہری اور مادی سختیاں اور جبر و تشدد جو ہے وہ شیطان کی رسیاں ہیں جو انسان کے لئے تیار کی ہیں، گمراہ کرنے کے لئے انسان کے، ان کو تو نہیں کا ٹاکرتیں۔لا إكراه في الدين کے جوا کراہ کے معنی ہیں کہ دوسرے کو مجبور کرنا حالانکہ وہ کراہت محسوس