خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 643 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 643

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۴۳ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء کر دیتے ہیں اس لئے میں آپ کے پاس آگیا ہوں۔میں نے اسے کہا کہ اگر تم خرچ ہی کچھ نہیں کر سکتے تو تم نے میٹرک کس طرح پاس کر لیا۔اس نے کہا۔میرا ایک بڑا بھائی ہے وہ گورنمنٹ میں کلرک ہے۔نوے، سو روپیہ اس کو ملتا ہے۔میرا باپ بھی نابینا، ماں بھی نابینا۔میرے بھائی نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔سکول میں مجھے رعائتیں مل گئی تھیں۔گھر میں وہ مجھے روٹی دے دیتا تھا اب بھی دے گا۔میں نے اس کے حالات سنے۔میں سمجھا اس کا حق ہے کہ اس کو پڑھایا جائے۔میں نے یہ بھی سمجھا کہ اس کا یہ بھی حق ہے کہ کچھ بوجھ اس کے اوپر ڈالا جائے۔میں نے اسے کہا کل دس روپے لے کے آجانا میں تمہیں داخل کرلوں گا۔اس نے چار سال ہمارے پاس گزارے، بی اے پاس کیا۔چار سال میں صرف دس روپے اس سے لئے اور اب میں جب کہ یہ بات کر رہا ہوں اب بھی مجھے تکلیف ہو رہی ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اس کے دس روپے کی ادائیگی کے نتیجہ میں چند دن ان کے گھروں میں نیم فاقہ رہا ہوگا۔اتنی غربت تھی اس گھر میں۔میرے دماغ نے فیصلہ کیا جب تک یہ خاندان بچے کی تعلیم کے لئے کوئی قربانی نہیں دے گا۔ان کو یہ خیال نہیں پیدا ہو گا کہ اس کو سنبھالا جائے اور یہ پڑھائی کی طرف توجہ دے۔تو یہ چھوٹے چھوٹے بوجھ شاید ہمیں بھی ڈالنے پڑیں۔اس کے سارے اخراجات ادا کئے گئے۔بیماری کا خرچ بھی۔ایک دفعہ وہ بیمار ہو گیا تو کالج کی طرف سے ساڑھے تین سو چارسور و پیہ خرچ کیا گیا۔اس نے صرف دس روپے دیئے ہوئے تھے۔ساری فیسیں معاف ، اس سے ایک پیسہ نہیں لیا۔اس کی ہر ضرورت پوری کی لیکن وہ بڑا شریف دماغ تھا اس میں عزت نفس تھی۔اس طرح بھیک منگوں کی طرح مطالبہ نہیں کرتا تھا۔تو وہ چار سال پڑھا۔اس وقت خلیفہ وقت کی طرف سے مجھے حکم تھا کہ پڑھاؤ۔میں پڑھاتا تھا۔جماعت بڑی قربانی دے رہی تھی۔سینکڑوں ایسے بچے جو احمدی نہیں تھے ان کو جماعت احمدیہ نے ہر ممکن حد تک پڑھا یا اور کسی پر یہ احسان نہیں اور کوئی فخر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ساری عرب تیں اور فخر اسی کو ہیں۔میں نے ایک کمیٹی مقرر کی کہ قواعد بناؤ۔انہوں نے انعامی وظائف کے قواعد بنادیئے